بارش ابھی پوری طرح سےتھمی نہیں تھی۔ صادق مستری کی جھونپڑی کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے اس کی زندگی کے زخموں سے مایوسی رس رہی تھی۔۔۔۔۔
چولہا بجھا ہوا تھا، بی بی زینت کے آنسو سلگ رہے تھے۔ چھوٹا احمد کونے میں بیٹھا مٹی سے بنے ٹرک کے پہیے گھما رہا تھا۔۔۔ مگر اس کی آنکھوں اور دماغ میں کھیل نہیں، بھوک مچل رہی تھی۔
احمد ٹرک کے پہیے کے ساتھ اس خیال کو بھی گھما رہا تھا جو بار بار اس کو بھوک کی یاد دلا رہا تھا مگر اس کا دماغ یہ سب سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر کیا چیز ہے جو اس کو اتنی تکلیف دے رہی ہے لیکن اتنا ضرور اسے احساس تھا کہ اس کی ماں اس کے ہاتھوں سے نہ تو ٹرک چھین رہی ہے نہ ٹرک کاپہیہ گھومنے سے باز آ رہا ہے ٹرک کا پہیہ روٹی بھی تو نہیں بن رہا ۔۔۔۔۔
اتنے میں اس کی ننھی سماعتوں سے اس کے باپ کی آواز ٹکرائی ۔ ۔ ۔ ۔
“بی زینت۔۔۔۔۔۔۔۔!
کچھ کھانے کو ہے؟
“صادق نے اپنا گیلا کمبل اتارتے ہوئے پوچھا۔”
زینت نے سر جھکا لیا، “تین دن ہوگئے، آٹے کا آخری پیڑا بھی کل پکایا تھا۔”
صادق نے تھکی ہوئی سانس لی، “عارف میمن کے گھر جا رہا ہوں۔ کہتا تھا کچھ کام نکل آئے گا۔ مزدوری مل گئی تو چولہا پھر جل جائے گا۔”
زینت کے ہونٹوں پر ادھورا تبسم آیا، “تمہارے ہاتھ میں برکت ہو صادق، لیکن دل کہتا ہے کہ یہ لوگ بس ہمیں استعمال کرتے ہیں۔”
صادق نے نظریں چراتے ہوئے کہا، “استعمال نہ کریں تو ہم جئیں کیسے؟ یہ رشتہ مجبوری کا ہے، سبھی ان کی مجبوری کبھی ہماری۔ ۔۔۔۔۔
عارف میمن کے گھر کا دروازہ کھلا تو اندر سے ہنسی، قہقہے، اور سگریٹ کے دھوئیں کی خوشبو ملی۔ صادق نے جوتے دروازے کے باہر اتارے۔ مینیجر نے اوپر سے اسے دیکھا، جیسے کوئی مکڑی اپنے جال میں پھنسی مکھی کو دیکھتی ہے۔
“آ گیا صادق؟
میمن صاحب کہہ رہے تھے چھت کا کام مکمل کر، کل پارٹی ہے۔”
“جی صاحب، بس مزدوری…”
مینیجر نے درمیان میں ٹوکا، “پہلے کام کر لے، مزدوری بعد میں گنی جائے گی۔”
صادق خاموشی سے چھت پر چڑھ گیا۔ سردی بڑھ رہی تھی، ہاتھ جم گئے، ہتھوڑی پھسلتی گئی، مگر وہ رک نہ سکا۔ نیچے سے میمن کی آواز گونجی، “صادق! دیکھ، پانی نہ ٹپکے چھت سے، کل وزیر صاحب آ رہے ہیں۔”
صادق نے دل ہی دل میں کہا، “کاش کوئی میرے گھر کی چھت بھی یوں ٹھیک کر دیتا…”
رات ڈھل گئی۔ صادق جب واپس آیا تو زینت کے چہرے پر ایک عجیب سکون تھا، ایسا سکون جو اکثر بھوک کے بعد بے ہوشی میں آتا ہے۔
“احمد کہاں ہے؟”
“سو گیا… خالی پیٹ۔”
“کام مل گیا، زینت۔ مگر مزدوری کل ملے گی۔”
زینت نے آہستہ سے کہا، “تم ہمیشہ مزدوری کل لاتے ہو، صادق۔”
صادق نے جھک کر احمد کے چہرے پر ہاتھ رکھا۔ بچہ نیند میں کچھ بڑبڑا رہا تھا، “امی، کل روٹی ملے گی نا؟”
صادق کے آنسو احمد کے ماتھے پر گر پڑے۔
اگلی صبح عارف میمن نے پیسے گن کر میز پر رکھے۔
“یہ لو صادق، مگر کل پھر آنا، کچھ اور کام نکل آیا ہے۔”
صادق نے سر جھکا کر نوٹ سمیٹے۔
اسی لمحے عارف میمن کا بیٹا آیا، نئی چمکدار وردی پہنے، کہنے لگا، “ابو! آج اسکول میں سب کہہ رہے تھے ہمارے مزدوروں کے بچے اسکول کیوں نہیں جاتے؟”
میمن نے قہقہہ لگایا۔۔۔
“وہ اسکول جائیں گے تو ہمارا کام کون کرے گا؟
صادق کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے ۔۔۔
اس نے پیسے جیب میں ڈالے، مگر دل میں کچھ ٹوٹ گیا۔
باہر نکل کر اس نے خود سے کہا،
“یہ رشتہ مزدور اور مالک کا نہیں، بھوک اور نفع کا ہے، ایک رشتۂ اضطرار، جس میں محبت، ایمان، سب پیٹ کے آگے ہار جاتے ہیں
گھر لوٹا تو زینت چولہے کے پاس بیٹھی تھی۔
آج روٹی پکاؤں گی، احمد جاگ جائے گا تو خوش ہو جائے گا۔
صادق نے پیسے اس کے ہاتھ پر رکھے،
زینت، کیا کبھی ایسا دن آئے گا جب ہم کسی کے رحم کے محتاج نہ ہوں؟
زینت نے آگ سلگاتے ہوئے کہا،
صادق، شاید اس دن جب بھوک مر جائے ، یا ہم۔۔۔۔۔
لفافے میں پیسے تھے، مگر اندر سے ایک نوٹ بھی ۔۔۔۔۔۔
مگر اندر کہیں دل سے ایک قطرہ گرا، آنسو، یا پسینہ، یا شاید خون۔
اس رات احمد نے خواب میں دیکھا کہ اس کے باپ کے ہاتھوں میں روشنی کے چراغ ہیں، مگر وہ چراغ بجھ بجھ کر جل رہے ہیں۔
اور دور کہیں عارف میمن کے محل میں جنریٹر کی بجلی پوری رات جلتی رہی۔
صادق نیند میں بڑبڑایا،
“یہ دنیا اجیر اور اجر کے بیچ بٹی ہوئی ہے،
جہاں ہر تعلق صرف اضطرار کا ہے۔”
وہ دن ڈھل گیا، صادق نے مزدوری کے پیسے زینت کے ہاتھ پر رکھے۔
زینت نے ہلکی مسکراہٹ سے پوچھا، “کیا کہا مالک نے؟”
صادق نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا، “کہ وقت بدل گیا ہے۔”
زینت نے آہستہ سے کہا، “وقت نہیں صادق، بس انسان بدل گئے ہیں۔”
اچانک باہر شور مچا۔ جھونپڑی کے پاس عارف میمن کی کار رکی۔ مینیجر ہاتھ میں لفافہ لیے کھڑا تھا۔
“میمن صاحب نے کہا، اب تمہاری ضرورت نہیں۔”
صادق نے لفافہ پکڑا۔ اس کے اندر مزدوری کے پیسے اور ایک چمکدار کمپنی کا وزیٹنگ کارڈ تھا۔
وہ لمحہ صادق کی روح میں تیر بن کے اترا۔
زینت نے ساکت آواز میں پوچھا،
“اب کیا کرو گے صادق؟”
صادق نے کار کو جاتے دیکھا، پھر ٹھنڈی سانس لے کر بولا،
“اب کچھ نہیں زینت…۔۔
بس دعا کروں گا کہ اگلے جنم میں ہم انسان نہیں، ضرورت بن کر پیدا ہوں۔
نوٹ:ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں “