بارش تھم چکی تھی، مگر فضاء میں نمی ابھی باقی تھی۔ لندن کے مضافات میں ایک چھوٹی سی پہاڑی پر واقع عمارت کے سامنے زرد روشنی جل رہی تھی۔ دروازے کے اوپر ایک تختی پر لکھا تھا:’’The Haven‘‘
’’A home for those left behind.‘‘
’’دی ہیون۔۔۔۔ اُن کے لیے ایک گھر، جنہیں دنیا پیچھے چھوڑ گئی‘‘
اس عمارت کا مالک مسٹر ایڈورڈ گراہم تھا، 70 سالہ ایک انگریز، جس کی آنکھوں میں سکون بھی تھا اور تھکن بھی۔
ہر صبح وہ باغ میں نکلتا، بھیگی مٹی پر چلتے ہوئے پودوں کو پانی دیتا، کسی کے جھولے کو سیدھا کرتا، کسی کی ٹوٹی عینک کے فریم میں پیچ کس دیتا۔
یہ اس کا معمول تھا، جیسے وہ زندگی کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو روز جوڑنے نکلتا ہو۔
اولڈ ہوم کے باسی اسے ایڈورڈ” نہیں،’’فادر ایڈ‘‘ کہتے تھے۔
اور وہ ان سب کے لیے واقعی ایک باپ ہی بن گیا تھا۔
کوئی اس کے پاس اپنے بیٹے کے نہ آنے کا شکوہ لے کر آتا، کوئی اپنی بیوی کے چھوڑ جانے کی کہانی،
اور وہ بس خاموش سنتا رہتا، کبھی مسکراتا، کبھی کھڑکی سے باہر دیکھتا جیسے بارش کے پار کوئی جواب چھپا ہو۔
ایک دن شام کے وقت ایک نئی نرس، کلارا, نے اسے برآمدے میں بیٹھے دیکھا۔
وہ ایک ٹوٹا ہوا میوزک باکس مرمت کر رہاتھا۔
فادر ایڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسروں کے لیے کچھ نہ کچھ بناتے رہتے ہو وہ بولی،
’’تم اپنے لیے کچھ کیوں نہیں بناتے؟‘‘
ایڈورڈ نے نظریں اٹھائیں اور کہا،
’’کیونکہ جب بھی میں نے اپنے لیے کچھ بنایا… وہ کبھی قائم نہیں رہ سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کلارا نے سوالیہ انداز میں دیکھا۔۔۔!
وہ ہنس دیا،’’میں نے کبھی کسی کو الزام نہیں دیا، کلارا‘‘
بس ایک دن میری بیوی نے کہا،
’’ایڈورڈ، تم میرے ساتھ نہیں، اپنے خوابوں کے ساتھ بوڑھے ہو گئے ہو۔‘‘
میں نے جانا کہ انسان کبھی عمر سے نہیں، احساس سے بوڑھا ہوتا ہے۔
اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا۔
دور مغربی کھڑکی سے شام کی دھوپ آخری بار اس کے چہرے پر گری، جیسے وقت رک گیا ہو۔
ایڈورڈ نے اولڈ ہوم (The Havens)صرف ان لوگوں کے لیے نہیں بنایا تھا جنہیں ان کے بچے بھول گئے تھے،
بلکہ اپنے لیے بھی، کہ وہ خود بھول سکے کہ اس کا بھی کوئی گھر نہیں رہا۔
اس نے دنیا کے بچھڑے ہوئے لوگوں کو اکٹھا کیا،
اور ایک ایسا گھر بنایا جہاں کوئی’’خدا حافظ ‘‘ نہیں کہتا،
صرف ۔۔۔۔۔’’کل ملتے ہیں۔‘‘
کچھ دن بعد ایک صحافی آیا۔ انٹرویو کے دوران اُس نے پوچھا:
’’مسٹر گراہم، آپ نے تو بےشمار لوگوں کو پناہ دی، مگر… آپ کو پناہ کس نے دی؟‘‘
ایڈورڈ نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر آہستہ سے بولا:
’’میں نے خود کو دی۔ جب دنیا نے اپنے دروازے مجھ پر بند کر دیئے،میں نے اپنے لیے ایک دروازہ کھولا، اور دوسروں کے لیے کبھی بند نہیں کیا۔‘‘
اس شام وہ دیر تک صحن میں بیٹھا رہا۔ ہوا میں پتوں کی سرسراہٹ تھی۔
کلارا نے کھڑکی سے جھانکا تو وہ اپنی کرسی پر ٹیک لگائے خاموش بیٹھا تھا۔
اس کے ہاتھ میں وہی میوزک باکس تھا، بند، مگر ہلکی سی دھن اب بھی سنائی دے رہی تھی۔
کلارا قریب گئی تو دیکھا، اس کی آنکھیں بند تھیں، اور ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو مکمل سکون کی علامت تھی۔
اگلی صبح دروازے پر ایک پرچی چپکی ملی، ایڈورڈ گراہم کے ہاتھ کی لکھی ہوئی:
’’اگر محبت تمہیں چھوڑ جائے، تو ایک ایسی جگہ بنا لو جہاں وہ لوٹ سکے۔
میں نے اپنی جگہ بنا لی… اور انتظار کیا۔
اب، میں گھر آ گیا ہوں۔‘‘
اولڈ ہوم’’The Haven‘‘کے دروازے کے اوپر وہی تختی اب تھوڑی مٹی میں ڈھک گئی تھی،
لیکن نیچے کے الفاظ آج بھی واضح تھے:
’’ان کے لیے گھر جنہیں دنیا نے چھوڑ دیا ‘‘