43

سیلاب ،متاثرہ علاقے قیامت کا منظرپیش کرنے لگے، ہر طرف تباہی ،متاثرین امداد کے منتظر، لاکھوں مویشی بھی لقمہ اجل بن گئے

Spread the love

سوات ، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، متاثرہ علاقے قیامت کا منظرپیش کرنے لگے، 24 گھنٹے کے دوران مزید 36 اموات، مجموعی تعداد 1162 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 10 لاکھ 57 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے، 7 لاکھ 35 ہزار مویشی بھی مارے گئے ہیں، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب میں پانی نے گھر گھر تباہی مچا دی ہے۔سندھ میں ہر طرف تباہی سے گوٹھ بچے نہ گھر، سڑکیں بھی کھنڈر بن گئیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 405 تک پہنچ گئی، جن میں 160 بچے بھی شامل ہیں، 35 لاکھ 19 ہزار ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں برباد ہونے کے ساتھ ساتھ، مواصلاتی نظام ناکارہ ہوگیا جبکہ ریلوے ٹریک بھی مکمل بند ہیں، صوبے میں غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہونے لگا۔ادھر کوئٹہ کے نواحی علاقے نواں کلی میں سیلابی ریلوں نے کئی خاندانوں کو بے سرو ساماں کر دیا، حکومتی امداد کے منتظر متاثرین مخیر حضرات کی جانب سے دو وقت

کی روٹی ملنے پر اپنی بھوک مٹانے پر مجبور ہیں۔حالیہ مون سون کی بارشوں نے دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان کے ہر ضلع کو بھی شدید متاثر کیا ہے، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں سیلابی پانی اپنے ساتھ پتھر اور مٹی کے ڈھیر بھی لے ا?یا، جس کی وجہ سے سڑکوں پر پتھر اور مٹی کی کئی فٹ موٹی تہہ جم گئی، علاقے میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔بالاکوٹ کی وادی منور میں آنے والے سیلاب کے 6 روز گزرنے کے بعد بھی علاقہ مکین گھروں میں محصور ہیں، راشن بھی ختم ہو چکا ہے، وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان30 کروڑ فنڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔سوات کے علاقے بحرین میں بھی حالیہ سیلاب نے تباہی پھیلا دی ہے، متعدد گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں، بحرین بازار کے قریب درجنوں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257، آزاد کشمیر میں 41افراد،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7لاکھ 30ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں، 18

پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔سندھ میں 2ہزار328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا ایک ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو سیلاب متاثرین کیلئے 30لاکھ ڈالر گرانٹ فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق فراہم کی گئی رقم سیلاب زدگان کی امداد، فوڈ سپلائی، ٹینٹ خریداری کیلئے استعمال ہوگی۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ جولائی کے دوران پاکستان میں پیشگوئی سے 60فیصد سے زائد بارشیں ہوئی، جس کی باعث آنیوالے سیلاب سے 3کروڑ 30لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔اے ڈی بی نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں ایک ہزار سے زائد اموات جبکہ 1500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے

بھی امداد کی اپیل کردی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے ای سی بی کی جانب سے لکھا گیا کہ ہماری دلی ہمدردیاں سیلاب سے متاثرہ پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں، برطانوی بورڈ نے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے دی سٹیزن فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔قبل ازیں دونوں بورڈز نے کراچی میں شیڈول پہلے میچ کی آمدنی سیلاب زدگان کے فنڈ میں جمع کروانے کا اعلان کر رکھا ہے۔خیال رہے کہ سیلاب سے پاکستان کو اب تک 4 بلین ڈالر تک کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ملک بھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریلیف ا?پریشن جاری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ا?ئی ایس پی ا?ر) کے مطابق ملک بھرمیں ریلیف آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹر کی 140 پروازیں چلائی گئیں اور سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے 550 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران راشن اور امدادی سامان پہنچایا گیا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سیلاب متاثرین میں 6 ہزار 140 راشن کے پیکٹ اور 325 خیمے تقسیم کیے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ا?ئی ایس پی ا?ر) کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں مختلف میڈیکل کیمپوں کے ذریعے 5 ہزار 213 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔جنوبی پنجاب میں سیلاب سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی اربوں مالیت کی مختلف فصلیں تباہ ہو گئی ہیں جس سے سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک کی قلت ہونے پر سبزیوں

کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب میں خوفناک سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے جس سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی کپاس، کماد، دھان، دالیں مختلف فصلیں اور چارہ جات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اربوں مالیت کی فصلیں تباہ ہونے سے سیلاب زدہ علاقوں میں غذائی قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے متاثرہ بستیوں کے مکینوں کی بڑی تعداد راشن کے حصول کیلئے امدادی ٹیموں کی منتظر ہے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خو راک کی نایابی کیساتھ ادویات اور صاف پانی کی قلت کا بھی مسئلہ درپیش ہے جس کی و جہ سے سیلاب متاثرین کی اکثریت سیلابی پانی پینے پر مجبور ہو گئی ہے۔پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے ضروری سامان لے کر جمہوریہ ترکیہ سے چھٹی پرواز کراچی پہنچ گئی۔ سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ترکش ائیر فورس کے ائیربس طیارے نے رات دو بجے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی۔ ڈائریکٹر جنرل ایم او ایف اے نے پرواز کا استقبال کیا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نمائندے، ترکیہ کے سفیر، قونصلر جنرل اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس سے قبل

گزشتہ تین روز کے دوران ترکیہ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان لیکر ترکش ائیر فورس اور ترکش کارگو کے 5 طیارہ کراچی پہنچ چکے ہیں، امدادی سامان میں ٹینٹ، ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء سامان شامل ہیں۔چین کی طرف سے سیلاب متاثرین کی امداد ی سامان بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے، مزید چار جہاز بد ھ کو کراچی ایئر پور ٹ پر امداد ی سامان لیکر پہنچے جن میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ تین ہزار ٹن امداد ی سامان شامل ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان چین کا شکر گزار ہے، چین کی طرف سے مزید چار جہاز کراچی ائیر پور ٹ پر امدادی سامان لیکر اترے ہیں، چین کی طرف سے متاثرین کی بروقت امداد کی جارہی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد جاری کر دی ۔بدھ کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد زخمیوں کے علاج، طبی ساز و سامان کی فراہمی اور وبائی امراض کو روکنے میں کام آئے گی۔
علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے سیلاب زدہ علاقے کالام اور کانجو کا دورہ کیا، دورہ کے دوران سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔وزیراعظم کالام میں پھنسے ہوئے سیاحوں سے ملاقات کی، سیاحوں کو نکالنے کیلئے ہیلی کاپیر فراہم کرتے ہوئے فوری محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی اور اپنی نگرانی میں سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں کی بحالی کا حکم دیا۔سیلاب زدہ علاقے دورہ کانجو میں وزیراعظم کو سیلاب سے نقصان، ریسکیو اور ریلیف کے کاموں پر بریفنگ دی گئی، دوران بریفنگ کہا گیا کہ سیلاب سے پلوں،شاہراہوں ہوٹلوں اورگھروں کو نقصان پہنچا، کانجو میں سیلاب سے 22افراد جاں بحق ہوئے ہیں، بھاری مشینری کے ذریعے شاہراہوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔بعد ازاں دورہ کے موقع پر

وزیر اعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے لیے 10 ارب روپے کی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے تباہی ہوئی کیونکہ لوگوں نے دریا کے اوپر اور اندر تعمیرات کر رکھی تھیں۔ آرمی چیف نے سیاحوں کو منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹرز فراہم کیے ہیں۔این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں اور افواج پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر داد دیتا ہوں، سیلاب اور بارشوں سے بہت زیادہ تباہی بڑی ہے۔ وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 28 ارب روپے جاری کیے ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرہ فی خاندان کو 25 ہزار روپے دیئے جائیں گے، برادر ممالک بھی اس مشکل میں سیلاب متاثرین کی مدد کر رہے ہیں اور ہمیں جہاں جہاں سے سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز ملیں گے ہم اس کے امین ہیں۔ا?ئی ایم ایف پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اللہ کرے آئی ایم ایف کا یہ ہمارا آخری پروگرام ہو۔ ہم نے اخوت کے ساتھ مشکل حالت سے نکلنا ہو گا۔وزیراعظم شہباز شریف سے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور پاکستان میں سیلاب کی صورتحال اور نقصانات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر اعظم نے یو اے ای کے صدر کو بتایا کہ سیلاب سے تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلاب کی زد میں آکر 1162 افراد جاں بحق اور 3554 زخمی ہوئے ہیں، مشکل کی گھڑی میں یو اے ای

کے مثالی تعاون سے نیا حوصلہ ملا ہے۔دوسری جانب چین کے صدر اور وزیراعظم کا پیغام پاکستان میں چین کے سفیر نے پاکستانی قیادت کو پہنچایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح چین کی قیادت اور عوام نے پاکستان دوستی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے، صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔چین کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لئے 100 ملین یوآن کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے جس میں 25000 خیمے اور دیگر امدادی اشیاء شامل ہیں۔دریں اثناوزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں،متاثرین کی بحالی کیلئے دن رات کام کریں گے،متاثرین میں فی خاندان کو 25ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا،وست ممالک پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان فراہم کررہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین میں امدادی چیکس بھی تقسیم کئے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پٹن میں سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں،اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کوصبر دے، کالام، کانجو اور دیگر اضلاع میں بارشوں اور سیلاب سے بہت تباہی ہوئی، وہاں موجود سیاحوں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جار ہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصیبت کی

اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں،متاثرین کی بحالی کیلئے دن رات کام کریں گے،متاثرین میں فی خاندان کو 25ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا،جاں بحق افراد کے لواحقین کو وفاقی حکومت کی جانب سے 10,10لاکھ روپے مہیا کئے جائیں گے،جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ کا کوئی نعم البدل نہیں۔وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ڈسکوز چیف ایکزیکٹو ز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے شہروں میں موجود رہیں اور ان کے ناموں اور نمبر کے ساتھ عوام کی سہولت اور شکایت کے لئے آگاہی مہم چلائی جائے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک بھر میں بجلی، سڑکوں اور مواصلاتی نظام پر ہنگامی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ڈسکوز چیف ایکزیکٹو ز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے شہروں میں موجود رہیں اور ان کے ناموں اور نمبر کے ساتھ عوام کی سہولت اور شکایت کے لئے آگاہی مہم چلائی جائے۔وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے سے واپس اسلام آباد پہنچتے ہی ایف ڈبلیو او و دیگر اداروں کا نقصانات اور انفراسٹرکچر کی بحالی پر جاری کام کی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں اوت متعلقہ وزارتوں کے حکام شریک ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کو حالیہ صورتحال اور جاری بحالی کے کام پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے سیلاب زدہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی جلد بحالی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی جانب سے سیلاب کے نقصانات پر اظہار افسوس کے جواب میں بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا ہے۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس پر نریندر مودی کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام قدرتی آفت کے منفی اثرات پر جلد قابو پا لیں گے۔واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چند روز قبل پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں