56

سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کیلئے عدم تحفظ کے خدشات کئی گنا بڑھ گئے

Spread the love

کراچی ( وی او پی یوز )پاکستان میں سیلاب کی بدترین تباہ کاریوں اور لاکھوں افراد کے بے گھر ہوجانے کے بعد صنفی بنیاد پر تشدد اور بچوں کے عدم تحفظ کے خدشات دگنا ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل انسانی تحفظ کی سرگرمیوں کیلئے معاون ادارے پروٹیکشن سیکٹر کے مطابق سیلاب نے عدم تحفظ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے جن میں خاندانوں کا بچھڑ جانا، صنفی بنیاد پر تشدد، چوریاں اور جسمانی حملے شامل ہیں، خاص طور پر خواتین اور لڑکیاں تشدد کا نشانہ بننے کے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے حالیہ جائزوں کے مطابق سندھ اور

خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں نصف سے زائد خواتین کو بیت الخلا کی مناسب سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔ان سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات کا بھی سامنا ہے،سروے کے مطابق سندھ میں 100 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 65 فیصد خواتین اور لڑکیوں نے ماہواری کے حوالے سے درکار سامان کی عدم دستیابی کی اطلاع دی،ان جائزوں میں خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ جگہوں اور پناہ گاہوں کی فوری ضرورت کی نشاندہی کی گئی کیونکہ سیلاب کے سبب نقل مکانی کرنے والے مقامات پر لوگوں کو شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے۔دریں اثنا یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے یو ایس ایڈ ڈیزاسٹر اسسٹنس رسپانس ٹیم کی قیادت میں ریلیف آپریشن کیلئے دبئی میں یو ایس ایڈ کے گودام سے ہنگامی امدادی اشیا کی پاکستان ترسیل کا فضائی آپریشن مکمل کرلیا۔یو ایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے 15 پروازوں کے ذریعے تقریباً 630ٹن امدادی سامان کی ترسیل کی جو 3 لاکھ 35 ہزار سے زائد لوگوں کو پناہ دینے کیلئے کافی ہے، اس کے علاوہ 2 پروازیں اس سامان کو آف لوڈ کرنے کیلئے درکار عملے اور مشینری کیلئے تھیں۔اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ چند روز میں سیلاب کی سطح میں کچھ کمی کے باوجود مسلسل جمع پانی بنیادی انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچانے، انسانی ضروریات کو بڑھانے اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں