137

ناصر کاظمی ۔۔۔۔جن کے عہد کا سب سے بڑا تجربہ”بٹوارہ“ تھا

Spread the love

ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925ءکو امبالہ شہر میں پیدا ہوئے ۔ والد محمد سلطان کاظمی رائل انڈین آرمی میں صوبیدار میجر کے عہدے پر فائز تھے۔ والد کے پیشہ ورانہ تبادلوں کی وجہ سے ان کا بچپن کئی شہروں میں گزرا ۔ میٹرک مسلم ہائی سکول انبالہ سے کیا۔ مزید تعلیم کے لیے اسلامیہ کالج لاہور آ گئے ۔ہجرت کر کے پاکستان آ ئے اور لاہور شہر کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی انہیں یکے بعد دیگرے والدین کے چل بسنے کا غم جھیلنا پڑا۔
1942 کا واقعہ ہے۔ اسلامیہ کالج لاہور میں آل انڈیا ریڈیو کے اہتمام ایک مشاعرہ ہوا۔ صدارت عابد علی عابد کی تھی اور اس میں

ہندوستان کے کئی نامی شاعر موجود تھے۔لیکن مشاعرے کے دوران ایک 17 سالہ نوجوان نے دھیمی آواز اور اس سے بھی دھیمے سروں کی غزل سنائی جس نے سب کو چونک جانے پر مجبور کر دیا۔
یہ غزل تھی:
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
یہ ناصر کاظمی تھے جنہوں نے بیسویں صدی میں نغمے کو اعتبار بخشا ، ناصر کے عہد میں اور ابھی تک کا سب سے بڑا تجربہ ’بٹوارہ‘ تھا۔ ناصر نے خود بھی ہجرت کی اور اس کے نتیجے میں جیسی شکست و ریخت دیکھی اس کا اظہار اس ڈھب سے کیا کہ اجتماعی تجربہ بن کے رہ گئی۔ اردو شاعری میں ہجرت کو تہذیبی تجربہ اگر کسی نے بنایا تو وہ ناصر کاظمی کے سوا کون ہے۔ ’دیوان‘ اور ’برگ نے‘ کی ایک ایک غزل کے چند شعر دیکھیے۔ کیا یہ رویہ ذاتی محبت کی ناکامی سے پھوٹتا محسوس ہوتا ہے؟
پتیاں روتی ہیں سر پیٹتی ہیں
قتل گل عام ہوا ہے اب کے
شفقی ہو گئی دیوار خیال
کس قدر خون بہا ہے اب کے
۔۔۔۔
زمیں لوگوں سے خالی ہو رہی ہے
یہ رنگ آسماں دیکھا نہ جائے
پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے
40 کی دہائی میں جب ناصر کاظمی نے غزل شروع کی انہی وقتوں میں میرا جی، فیض، اور راشد کے اولین مجموعے سامنے آئے ۔ 50 کے عشرے میں ناصر کے بعد ایک طرف ظفر اقبال، شہزاد احمد اور سلیم احمد کی نئی غزل کا شہرہ ہوا۔ دوسری طرف احمد مشتاق دھیمے لہجے کی کیفیت سے بھرپور غزل لکھتے نظر آئے۔

ناصر کاظمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انکا لب و لہجہ نرم اور کیفیت ٹھہراو کی سی ہے۔ وہ آج بھی گلی کوچے کے شاعر ہےں۔ ناصرکاظمی کے ناقدین بھی یہ مانتے ہیں کہ ان کو جس سانچے میں بند کرنے کی کوشش کی جائے ناکامی ہو گی کیونکہ ان کے ہاں سماجی رویے اس قدر تحلیل شکل میں ملتے ہیں کہ ان کے اجزا الگ الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔
2 مارچ، 1972ءکو ناصر کاظمی کا انتقال ہو گیا، ناصر کوگزرے کئی برس بیت چکے لیکن اپنے کلام کی بدولت وہ آج بھی شاعری کی دنیا پہ راج کرتے ہیں۔ انہوں نے غزل کی زمین ہی ہموار نہیں کی بلکہ ایسی عمارت بھی کھڑی کر کے دکھائی جس کی بلندی کو ان کے بعد کوئی دوسرا شاعرآسانی سے چھو نہیں سکتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں