65

عدم اعتماد کی ناکامی پر کیا ہوگا، فی الحال مسلم لیگ (ق) وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہی ہے؟

Spread the love

لاہور (طیبہ بخاری) تحریک انصاف کی حکومت کیخلاف اپوزیشن اپنے رابطوں میں تیزی لے آئی ہے ، مطلوبہ ارکان کی تعداد پوری کرنے کیلئے جی جان سے کوششیں جاری ہیں ۔  اتحادیوں کو حکومت سے الگ کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اتحادی بھی اس وقت کو غنیمت جانتے ہوئے’’ سیاسی ہوا ‘‘کا رخ اپنی جانب کرنے پر تُلے ہیں ۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مرحلہ ابھی آیا نہیں لیکن ٹی وی

اور اخبارات میں روز حکومت کے حمایتی عدم اعتماد ناکام بنا رہے ہیں جبکہ اپوزیشن کامیاب بنا رہی ہے ، اصل فیصلہ پارلیمینٹ میں ہو گا ، وقت بتائے گا کہ جیت کس کا مقدر بنے گی اور ہار کس کے حصے میں آئے گی ۔ آنے والے دنوں  یہ امر بھی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ جن کے حصے میں ناکامی آئے گی وہ آئندہ عام انتخابات میں عوام کا سامنا کیسے کریں گے اور ووٹ کس حیثیت  میں مانگیں گے ۔

تاریخ گواہ ہے کہ ملکی سیاست میں پنجاب کی سیاست ہمیشہ سے مرکز پر اثر انداز رہی ہے اور اس بار بھی کچھ نیا نہیں ہو رہا ، سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے یہاں ہم ماضی کی تفصیلات میں الجھے بغیر آگے بڑھیں تو پنجاب میں کون سی اتحادی جماعت حکومت کیلئے درد سر یا پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے تو

اس حوالے سے سب سے پہلے مسلم لیگ (ق ) کا نام لیا جائے گا ۔ مسلم لیگ (ن) صرف پی ڈی ایم کی حدتک پریشر گروپ کا کام دے رہی ہے۔ (ق) لیگ جو گذشتہ ساڑھے تین برسوں سے حکومت یعنی تحریک انصاف کی اتحادی رہی ہے اب کیا کرنے جا رہی ہے اس کا فیصلہ تو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن ہو گا فی الحال مسلم لیگ (ق) حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنی اہمیت کا شدت سے احساس کروا رہی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ پرویز الہیٰ کے انٹرویوز موجودہ صورتحال میں مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں ، ایک روز قبل وہ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کچھ کہتے ہیں اور اگلے ہی کسی دوسرے چینل کو کچھ اور سمجھانے

کی کوشش کرتے ہیں لیکن حکومت  اور عوام اتنے بھی نا سمجھ نہیں کہ یہ نا جان سکیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں اور کیوں کبھی ہاں اور کبھی ناں کہتے ہیں ۔لیکن یہ بھی کیا خوب ہے کہ (ق) لیگ کے  سیاسی مقدر کا فیصلہ بھی حکومت کے ہاتھوں میں ہی ہے ، وہ ایسے کہ اگر اب بھی حکومت (ق) لیگ سے وہ تمام معاملات ’’کچھ لو کچھ دو‘‘ کے فارمولے کے تحت طے کر لے جو کہ وہ چاہتی ہے تو پھر عدم اعتماد کے غبارے میں ہوا رہے گی یا نکل جائے گی سب صاف ہو جائے گا ۔ صورتحال دلچسپ اس لیے بھی ہے کہ سب جماعتوں نے اپنے پتے چھپا رکھے ہیں حتیٰ کہ حکومت نے بھی ۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ باقاعدہ نجی ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں دعوے کئے جا رہے ہیں کہ اپوزیشن نے حکومت کے کئی ارکان اغوا کر لئے ہیں اور ان مغویوں کو اس دن رہائی ملے گی جب وہ تحریک عدم اعتماد والے دن ووٹ ڈالنے جائیں گے اور وہ بھی پوری سیکیورٹی کے ساتھ ۔جبکہ دوسری جانب حکومت بھی’’ چپ‘‘ اور’’ چھپ‘‘ کر نہیں بیٹھی جلسوں کا بھرپور پروگرام جاری ہے اور حکومتی وزرا کی جانب سے ڈٹ کر کہا جا

رہا ہے کہ مغویوں کو دن دیہاڑے بازیاب کروایا جائے گا اور عین ممکن ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی نوبت ہی نہ آئے ۔دوسری جانب مسلم لیگ (ق) اپنے پتے بڑی سیاسی مہارت سے کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے ، کبھی اپوزیشن کی طرف جھکائو کا اظہار کرتی ہے تو کبھی یہ بیان داغا جاتا ہے کہ ہم نے حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑا اب بھی اتحادی ہیں ۔۔۔۔یعنی کہ دونوں ہاتھوں میں’’ لڈو‘‘ ۔۔۔۔(ق) لیگ اپنے پتے شو نہیں کر رہی حکومت بھی تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو والا کام کر رہی ہے۔ کپتان کو معلوم ہے کہ ان کا واسطہ منجھے ہوئے سیاسی جگادریوں سے ہے اور ایک سال بعد نئے انتخابات بھی ہونے ہیں ، حکومت مدت پوری کرے یا نہ کرے کپتان اپنا’’ کام ‘‘ضرور پورا کرنا چاہیں گے کیونکہ  وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  گذشتہ انتخابات میں انہیں ووٹ جس لب و لہجے کے باعث ملے تھے آئندہ بھی ملیں گے ، اسی امید پہ وہ اپنا اور دوسروں کا’’ کام تمام ‘‘کرتے جا رہے ہیں ۔ اب یہ فیصلہ وقت کرے گا کہ’’ یو ٹرن ‘‘کون سی جماعت اور شخصیت لے گی فی الحال آپ اخبارات کا بغور  مطالعہ کریں اور ٹی وی چینلز پر سیاسی لڑائیوں کو غور سے دیکھیں تو صاف واضح ہو جائے گا کہ یو ٹرن لینا کسی ایک کی عادت نہیں’’ اس حمام میں سب ننگے ہیں ‘‘۔ سب بتا بہت کچھ رہے ہیں اور چھپایا بھی جا رہا ہے ، کوئی پتے دکھا رہا ہے تو کوئی چھپا رہا ہے۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔’’سب پھڑے جان گے ۔۔۔۔سارے پھڑے جان گے ‘‘۔  یہ الگ بات ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ تک کچھ یقینی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں