76

مسلمانوں کے بعد عیسائی بھی غیر محفوظ …… بھارت میں بائبل پر بھی تنازع شروع ہو گیا

Spread the love

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک )حجاب تنازع کی وجہ سے طویل عرصے سے خبروں میں رہنے والی بھارتی ریاست کرناٹک ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس بار پھر سکول سے ہی تنازع شروع ہوگیا ہے اور اس پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ دراصل، یہ نیا تنازع عیسائی مذہب کی مقدس کتاب بائبل کا ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک کے ایک پرائیویٹ سکول نے والدین کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بائبل لینے سے منع نہیں کریں گے، بچوں کو

ہروقت بائبل لانا اور پڑھنا پڑے گی، الزام ہے کہ سکول نے بائبل پڑھنا ہر بچے کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب معاملے کا علم ہوتے ہی ہندو تنظیمیں اس کے خلاف میدان میں آگئی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔سکول کی جانب سے اس طرح دوسرے مذاہب کے بچوں کو زبردستی بائبل پڑھانا غلط ہے۔کرناٹک حکومت نے حال ہی میں ریاست کے اسکولوں میں ہندو مذہب کی مقدس کتاب گیتا پڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعلیٰ کرناٹک نے کہا تھا کہ گیتا کو سکول کے نصاب میں شامل کرنے کے فیصلے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، اس کے بعد اسے شامل کیا جائے گا۔اب بائبل تنازعہ کے درمیان کئی تنظیمیں یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ جب اسکول میں گیتا ہر کسی کو پڑھائی جا سکتی ہے تو بائبل کیوں نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں