80

کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی 4 روپے 83 پیسے مہنگی ہونے کا خدشہ

Spread the love

کراچی ( کامرس نیوز ) کراچی میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں فی یونٹ 4 روپے 83 پیسے، باقی ملک میں فی یونٹ 2 روپے 87 پیسے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عوامی سماعت کے بعد چیئرمین نیپرا نے کہا ہے کہ ابھی ایک تخمینہ بتایا ہے کہ کہاں تک اضافہ ہو سکتا ہے، اتھارٹی ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی، اضافے کا اطلاق صرف 1 مہینے کے لیے ہو گا۔نیپرا کے اعلامیے کے مطابق عوامی سماعت چیئرمین نیپرا انجینئر توصیف ایچ فاروقی کی زیرِ صدارت ہوئی، جس میں نیپرا ممبران انجینئر رفیق احمد شیخ اور انجینئر مقصود انور خان بھی موجود تھے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نے کے الیکٹرک اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی۔چیئرمین نیپرا کے مطابق ابھی ایک تخمینہ بتایا ہے کہ کہاں تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

نیپرا کے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق کے الیکٹرک کے مارچ کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی نیپرا ہیڈ کوارٹر میں عوامی سماعت ہوئی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے مطابق اضافہ 4 روپے 83 پیسے بنتا ہے، اس کا اطلاق صرف 1 مہینے کے لیے ہو گا۔نیپرا کا اعلامیے میں کہنا ہے کہ کے الیکٹرک نے ایف سی اے کی مد میں 5 روپے 27 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست جمع کرائی تھی۔نیپرا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتھارٹی ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی۔نیپرا میں فی یونٹ بجلی 3 روپے 15 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ میں اضافے پر چیئرمین نیپرا نے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے حکام پر اظہارِ برہمی کیا ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر چیئرمین نیپرا کی زیرِ صدارت سماعت ہوئی۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست کر رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مارچ میں 10 ارب یونٹ سے زائد بجلی پیدا کی گئی، پانی سے 16.35 فیصد، کوئلے سے 24.83 فیصد، مہنگے فرنس آئل سے 10.62 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
سی پی پی اے کے مطابق مقامی گیس سے 9.53، درآمدی ایل این جی سے 18.87 فیصد اور جوہری ایندھن سے 15.01 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔نیپرا کی سماعت کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔چیئرمین نیپرا نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے؟نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے حکام نے جواب دیا کہ گرمی زیادہ بڑھ گئی ہے۔نیپرا حکام نے استفسار کیا کہ پاور پلانٹس کے لیے فیول کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کے حکام نے جواب دیا کہ گرمی بڑھنے سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا۔چیئرمین نیپرا نے کہا کہ یہ کوئی جواز نہیں، دنیا اتنی ترقی کر گئی ہے، 3 ماہ بعد کے موسم کی پیشگوئی بھی آج با آسانی مل جاتی ہے۔نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے حکام نے کہا کہ محکمۂ موسمیات سے بھی پیش گوئی درست نہیں دی جاتی۔وائس چیئرمین نیپرا نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا جواب ہے، ہم 1970ء میں نہیں بیٹھے ہوئے۔وائس چیئرمین نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ آپ کو موسم کی پیش گوئی کا معلوم نہیں ہوتا؟ عوام پس رہے ہیں۔چیئرمین نیپرا نے این پی سی سی اور سی پی پی اے کو ہدایت کی کہ بجلی کی صورتِ حال بہتر بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں