118

بھارت میں نفرت سے تباہی…. مودی کے نام دانشوروں‌کا کھلا خط…… عالمی جینو سائیڈ واچ کی مسلمانوں کی نسل کشی پر تشویش

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) بہت سے سوالات نے مودی سرکار کے عہد میں جنم لیا ہے….
اور ان سوالات کے جوابات کسی اور سے نہیں بلکہ مودی سرکار سے ہی پوچھے جانے بہت ضروری ہیں……
پہلا سوال….. گنگا جمنی تہذیب کا کیا ہوا …؟
دوسرا سوال …..سیکولر بھارت کہاں ہے …..؟
تیسرا سوال ……کیا بھارت اقلیتوں کا دیس نہیں …..؟
چوتھا سوال …….کیادنیا کی بڑی جمہوریت میں جمہور کی نسل کشی کی جاتی ہے …؟

پانچواں سوال ….کیا دھونس اور جبر سے مذہبی آزادیاں‌چھیننا جائز ہے …؟
چھٹا سوال …….کیا حکومت کے سوا سب غلط ہیں ….؟
ساتواں سوال ……کیا بھارت صرف ہندوؤں کا دیس ہے …؟
آٹھواں‌سوال ……..بھارت کے مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی باتیں کرنیوالوں کو روکا کیوں نہیں جا رہا …؟
نواں سوال …….کیابھارتی معاشرے میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے ….؟
دسواں سوال ……بھارت میں اٹھنے والی انصاف اور جمہوریت پسند آوازوں کو کیوں دبایا جا رہا ہے …؟
اور بھی بہت سے سوالات ہیں لیکن اب یہاں مختصرآمودی سرکار کی موجودگی میں بھارتی معاشرے میں زہر کی طرح پھیل جانیوالی

انتہا پسندی ، ظلم ، ضبر اور عدم برداشت کوبیان کرتے چلیں تو ریاست تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں ایک شخص نے اپنی حاملہ بیوی کو ٹوائلٹ کی صفائی کا مائع پینے پر مجبور کیا جسے پینے کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس نے بتایا کہ شوہر ترون نے متوفی کلیانی سے تقریباً 4سال قبل شادی کی تھی، 3 ماہ قبل جب کلیانی حاملہ ہوئی تو ترون نے اسے یہ کہتے ہوئے ہراساں کرنا شروع کر دیا کہ وہ اچھی نہیں ہے۔ اس نے مزید جہیز کی رقم حاصل کرنے کے لیے اسے تنگ کرنا بھی شروع کر دیا۔ خاتون کے رشتہ داروں نے ترون اور اس کے خاندان کے خلاف شکایت درج کرائی اور الزام لگایا کہ انہوں نے اسے اضافی جہیز کے لیے ہراساں کیا اور اسے ٹوائلٹ کی صفائی کا مائع کھانے پر مجبور کر کے قتل کر دیا۔دوسری جانب ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔
عدم برداشت کی ایک اور کہانی سنتے چلئے کہ بھارت میں ایک 21 سالہ نوجوان کو برتن دھونے کے تنازع پر اپنے فلیٹ میٹ کو قتل

کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اس واقعے کے ملزم کی شناخت بھارت کے ضلع کٹک کے رہنے والے انیل کمار سرت کمار داس کے نام سے کی گئی ہے جبکہ مقتول کی شناخت 28 سالہ امر بسنت مہوپترا کے نام سے ہوئی ہے۔اس واقعے کی شکایت ملزم اور مقتول کے ان کے ساتھ رہنے والے ایک تیسرے شخص 40 سالہ برجو ساہو نے درج کرائی تھی۔ ان تینوں افراد کا تعلق بھارت کی مختلف ریاستوں سے ہے جوکہ نقل مکانی کرکے پونے آئے اور شہر میں حجام کی نوکری کرتے ہیں اور ایک ساتھ کرائے کے فلیٹ میں رہتے تھے۔پولیس کے مطابق، جمعہ کو آدھی رات ہونے سے کچھ وقت پہلے مہاپترا نے داس سے برتن دھونے کو کہا جس کے بعد دونوں میں بحث ہوئی اور مشتعل ہو کر داس نے باورچی خانے کا چاقو اٹھایا اور مہاپترا پر بے دردی سے وار کردیا۔
اور اب عدم برداشت کی تیسری کہانی آپ کو بتاتے ہیں اور وہ یہ کہ بھارت میں بغیر اجازت سموسہ کھانے پر ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا .بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ دہلی کے علاقے چھولا کے شنکر نگر میں پیش آیا۔چھولا مندر تھانہ انچارج نے اس شخص کی شناخت ونود اہیروار کے نام سے کی ہے۔انچارج نے بتایا ہے کہ’جب اہیروار ایک دکان میں داخل ہوا اور سموسہ اٹھا

کر کھانے لگا تو مالک نے اسے ڈانٹا اور پھر اس کے سر پر ڈنڈا مارا جس سے اہیروار کی موت واقع ہو گئی دکان کے مالک ہری سنگھ اہیروار اور اس کے 20 سالہ بیٹے کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے‘۔
یہاں ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ بھارت میں صرف ہندو مسلم ، یا ہندو عیسائی ، ہندو ، سکھ کی بحث ہی نہیں چل رہی بلکہ ہندی بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے …..مثال کے طور پر انڈین اداکار اجے دیوگن اور کچا سدیب میں انگریزی کی جگہ ہندی کو قومی زبان قرار دینے پر آن لائن تکرار کچھ ایسی چھڑی کہ اب اس نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے …..اس بحث کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ ایک حالیہ تقریب میں جنوبی انڈیا کی فلم انڈسٹری کے نامور اداکار کچا سدیپ نے جنوبی انڈیا کی فلموں کی پورے انڈیا میں کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندی ’اب قومی زبان نہیں ہے۔‘بالی وڈ ایکٹر اجے دیوگن نے اداکار کچا سدیپ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہندی زبان میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہندی ماں بولی ہے اور ہمیشہ قومی زبان ہی رہے گی۔‘اس بیان پر جنوبی انڈیا سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا جہاں بہت کم لوگ ہندی بولتے ہیں۔یہاں ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہندی زبان انڈیا کی 22 علاقائی زبانوں میں سے ایک ہے۔اس سے قبل حال ہی میں انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ہندی کو انگریزی کے

متبادل کے طور پر استمعال کریں جس کے بعد انڈیا میں قومی زبان کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔شمالی انڈیا میں ہندی عام بول چال کی زبان ہے لیکن مشرقی اور جنوبی انڈیا میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔انڈیا میں 46 فیصد آبادی ہندی بولتی ہے لیکن شمالی انڈیا کے باہر بہت کم لوگ ہندی کو ترجیح دیتے ہیں۔ماضی میں ہندی زبان کو پورے بھارت پر مسلط کرنے کی کوششوں کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور مختلف ریاستوں میں تمل ناڈو سمیت مختلف ریاستوں میں اس کے خلاف احتجاج بھی ہوتا رہا ہے۔1965 میں تمل ناڈو میں اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب ہندی کو قومی زبان کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔وزیر داخلہ امت شاہ کی ہندی کو انگریزی کا متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز پر کیرالہ اور ویسٹ بنگال کی وزرائے اعلیٰ نے سخت تنقید کی ہے۔حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اسے ہندی سامراج کہہ کر امت شاہ کی تجویز کی مذمت کی ہے۔آسکر انعام یافتہ میوزک کمپوزر اے آر رحمان نے جن کا تعلق تامل ناڈو سے ہے، ایک پوسٹر ٹویٹ کیا جسے امت شاہ کی ٹویٹ کا ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔اس پوسٹر میں ایک عورت تمل زبان کے لفظ ’زہا‘ کو اٹھا رکھا ہے جو تمل زبان کی مشہور نظم کی لائن سے ہے جس کا مطلب ہے ’زبان کا تعلق لوگوں کے حقوق کے ساتھ ہے۔‘
اور اب یہاں بھارتی دانشوروں کے اس کھلے خط کا ذکر کرنا ناگزیر ہو چکا ہے جو ابھی چند روز قبل انہوں نے اپنے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا ہے . …بھارت کی 100 سے زیادہ سرکردہ شخصیات، سابق اعلٰی عہدیداروں اور نوکرشاہوں کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو 3 صفحات پر مشتمل ایک مکتوب لکھا ہے، جس میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اس خط کے مطابق موجودہ صورت حال میں ریاستی حکومتیں پوری طرح ملوث نظر آتی ہیں، جس سے ملک کے آئین کو ہی خطرہ لاحق ہے۔.ہم بھارت

میں نفرت سے بھری تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے زیر کنٹرول حکومتیں زور و شور سے نفرت کی سیاست کو ہوا دے رہی ہیں۔ ہم اس کی روک تھام کے لیے آواز اٹھائیں گے۔
سابقہ اعلٰی عہدیداروں نے مودی کے نام اپنے مکتوب میں لکھا ، ’’گزشتہ چند برسوں اور حالیہ مہینوں میں اقلیتی برادریوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تشدد میں کئی ریاستوں کے اندرغیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دہلی کو چھوڑ کر (جہاں مرکزی حکومت پولیس کو کنٹرول کرتی ہے) ریاست آسام، دہلی، گجرات، ہریانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ، ان تمام ریاستوں میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں ہے، ایک خوفناک نئی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بے مثال خطرہ ہے اور یہ صرف آئینی اخلاقیات اور طرز عمل کے لیے ہی خطرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس منفرد ہم آہنگی والے سماجی تانے بانے کے لیے بھی خطرہ ہے، جو ہماری سب سے بڑی تہذیبی وراثت ہے اور جس کے تحفظ کے لیے ہی ہمارے آئین کو بہت احتیاط سے تیار کیا گیا تھا اور اب اس کے ٹوٹنے کا امکان ہے۔اس بہت بڑے معاشرتی خطرے پر، آپ کی خاموشی سب کو بہرا کر رہی ہے۔ ہماری آپ کے ضمیر سے اپیل ہے کہ آپ نے ‘سب کا ساتھ، سب کی ترقی اور سب کے اعتماد’ کا جو وعدہ کیا ہے اس پر صمیم قلب سے غور کریں.سابق سرکاری ملازمین کے طور پر، یہ ہماری عادت کے برعکس ہے، کہ ہم اظہار خیال کے لیے اس طرح کے انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کریں۔ لیکن مسلسل جس تیز رفتاری سے ہمارے بانیوں کے تعمیر کردہ آئینی عمارت کو تباہ کیا جا رہا ہے، وہ ہمیں بولنے اور اپنے غم و غصے کے اظہار پر مجبور کرتا ہے۔‘‘اس مکتوب میں وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ہمیں توقع ہے کہ ملک کی آزادی کے 75 برس کی تکیمل کے موقع پر رواں برس جو ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ منایا جا رہا ہے، اس میں متعصبانہ خیالات سے بالاتر ہو کر، آپ اس نفرت کی سیاست کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے، جس پر آپ ہی کی جماعت کی حکومتیں بڑی محنت سے عمل کر رہی ہیں۔‘‘بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی ہندو قوم پرست حکمران جماعت بی جے پی 2014 ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی، جم کر سماج کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے اور مذہبی منافرت کو فروغ دینے کا کام کرتی رہی ہے۔مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی دائیں بازو کے ہندو گروپوں نے اقلیتوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور آئے دن مساجد اور دیگر املاک کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔کئی ریاستیں تبدیلی مذہب کی مخالفت میں متنازعہ قوانین منظور کر چکی ہیں اور کئی اس پر غور کر رہی ہیں۔ حالانکہ یہ اقدام آئینی طور پر عقیدے کی آزادی کو تحفظ فراہم کرنے والے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔مودی حکومت نے شہریت سے متعلق ایک نیا قانون بھی منظور کیا ہے، جس میں مسلمانوں کے علاوہ،

پڑوسی ممالک سے آنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت دینے کا وعدہ کیا گيا ہے۔سن 2019 میں دوبارہ انتخاب میں کامیابی کے فوراً بعد مودی کی حکومت نے مسلم اکثریتی خطے کشمیر کو حاصل تمام خصوصی آئینی اختیارات ختم کرتے ہوئے اس کا ریاستی درجہ تک ختم کر دیا تھا۔ اس وقت سے کشمیر بھارتی سکیورٹی کے سخت حصار میں ہے، جس کے سینکڑوں سیاسی رہنما اور ہزاروں کارکن بھارت کی مختلف جیلوں میں اب بھی قید ہیں۔حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ایک ریاست میں تو حجاب پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اور آئیے اب چلتے ہیں عالمی جینو سائیڈ واچ کی رپورٹ کی طرف …..ورلڈ ودآؤٹ جینوسائیڈ کی بانی اور ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر ایلن کینیڈی نے امریکی کانگریشنل بریفنگ میں کہا ہے کہ مودی حکومت امتیازی پالیسیوں اور ریاستی سرپرستی میں تشدد کی کارروائیوں کے ذریعے ہولوکاسٹ کی طرح مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے کمر بستہ ہے۔ 80 سال پہلے یورپ میں یہودیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی بازگشت آج بھارت میں شروع ہوگئی ہے۔بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسند تحریک نے مسلم مخالف نفرت کے لیے سرکاری حمایت اور مسلم مخالف تشدد کے لیے استثنیٰ کو جنم دیا ہے۔جینوسائیڈ واچ کے ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی ہونے والی ہے۔……..
یہ ہیں وہ حالات جو گذشتہ چند روز میں بھارت میں رونما ہوئے ….سب آپ کے سامنے ہیں ، ہمیں‌ان سے کچھ لینا دینا نہیں ، ہمارا مقصد مودی سرکار پر تنقید برائے تنقید کرنا نہیں بلکہ مقصد انسانیت کا احترام ، امن اور بھائی چارے کا فروغ ہے …….ہم بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کا بھی احترام کرتے ہیں کیونکہ اس میں سب سے پیار اور مل جل کر رہنے اور آگے بڑھنے کی تعلیمات ہیں ……

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں