لاہور ( طیبہ بخاری سے ) خلیجی خطے میں وسیع ’’ جاسوسی نیٹ ورک‘‘ کا انکشاف ہوا ہے ۔ ایران ، پاکستان اور خلیجی ممالک کیخلاف بھی حساس معلومات اکٹھی کیے جا نے کا خدشہ ہے ۔
باخبر ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ آج دنیا کے منظرنامے میں جنگ کا مفہوم بدل چکا ہے۔ روایتی میدانِ جنگ کی جگہ اب ٹیکنالوجی نے لے لی ہے، جس میں سائبر حملے، پراکسی گروہ، اورانفارمیشن ڈومین سب سے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو بھارت ،اسرائیل جیسے خطرناک گٹھ جوڑ کا سامنا ہے جو نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور داخلی سلامتی کو بھی مسلسل چیلنج کر رہا ہے۔حالیہ ایران، اسرائیل کشیدگی میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ خلیجی ممالک میں بھارتی اثر و رسوخ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں میں لاکھوں بھارتی شہری جن میں آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ افراد کی تعداد زیادہ ہے ، کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران، اسرائیل کشیدگی کے دوران بھارتی پروگرامرز خفیہ سیٹلائٹ نظام’’سٹارلنک‘‘کے ذریعے بھارت سے براہِ راست منسلک تھے اور ایران میں جو سافٹ ویئر استعمال ہو رہا تھا، اس کے پسِ پردہ اسرائیلی ڈیجیٹل ڈھانچہ موجود تھا، جو خفیہ راستوں سے معلومات اسرائیل کو منتقل کر رہا تھا۔ یہ انکشاف ایران کیساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے ۔ یہ سافٹ ویئر سسٹمز، جو بظاہر بھارتی ماہرین نے متعارف کروائے، دراصل اسرائیلی ساختہ ٹیکنالوجی پر مبنی تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خلیجی خطے میں ایک وسیع جاسوسی نیٹ ورک قائم کیا جا چکا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف ایران بلکہ پاکستان اور دیگر خلیجی ممالک کے خلاف بھی حساس معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف جو منظم ڈیجیٹل نگرانی کا نظام قائم کیا تھا، وہ اس نئی حکمتِ عملی کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ اب وہی حکمتِ عملی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ دوبارہ بروئے کار لائی جا رہی ہے، جس کا نشانہ پاکستان بھی بن سکتا ہے۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان 2015سے 2025کے دوران دفاعی شراکت داری میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے جن میں اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدے، جدید ہتھیاروں کی خریداری اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ شامل ہے ۔
معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے مؤثر انداز میں بھارت کے سائبر حملوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ بہترین حکمت عملی کے تحت اس ڈومین میں واضح برتری بھی حاصل کی مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو دشمن کے سٹریٹجک منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے ۔یہ جنگ محض سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ ذہنوں، نظاموں اور سائبر اسپیس میں لڑی جا رہی ہے۔ اسرائیل اور بھارت اس جنگ میں مکمل تیاری کے ساتھ داخل ہو چکے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ فوری طور پر سائبر سیکیورٹی پالیسی کو ازسرِ نو مرتب کرے، قومی سطح پر سائبر دفاعی نظام قائم کرے، اور ہر لحاظ سے ڈیجیٹل تحفظ کو ترجیح دے۔ اس کیساتھ ساتھ پاکستان کو سفارتی محاذ پر بھی فعال کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی فورمز پر ان ریاستوں کی کارستانیوں کو بے نقاب کرنا ہوگا، جو ٹیکنالوجی کے ذریعے خطے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔