کیا آپ جانتے ہیں کہ جینیاتی طور پر انسان کے قریب ترین چیمپینزی بھی روزانہ کی بنیاد پر الکوحل پیتے ہیں؟
آج کی اس رپورٹ میں ہم ان تحقیقی نتائج پر بات کریں گے جس نے سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے ( بی بی سی ) کی ایک رپورٹ کے مطابق آج سے 10 سال قبل سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ چیمپینزی کی الکوحل سے رغبت کے ثبوت حاصل کرلیے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015 میں محققین کو مغربی افریقا کے ملک گنی میں چیمپینزیوں کے پام کے درختوں پر چڑھنے اور اس درخت پر موجود قدرتی طور پر تیار شدہ ’پام سیپ یا نشہ آور ایتھینول پینے کے ریکارڈ مناظر ملے۔
ان مناظر میں سائنسدانوں نے چیمپینزی کو قدرتی طور پر تیار شدہ مشروب کی ایک بوتل پی کر مدہوشی میں سوتے دیکھا گیا جسے دیکھ کر سائنسدان بھی حیران رہ گئے۔
چیمپنزیوں نے تیار شدہ مشروب کیسے دریافت کیا؟
اس صورتحال میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ چیمپینزیوں کو یہ مشروب کیسے ملا؟ گنی کے جنگلات میں ریکارڈ کیے گئے مناظر میں چیمپینزیوں کو درختوں کے تنوں پر کٹاؤ کرکے وہاں پلاسٹک کے برتن لگاکر مشروب جمع کرتے دیکھا گیا۔
بعد ازاں گروہوں کی شکل میں چیمپینزی ان درختوں پر چڑھتے اور رس پیتے بھی دیکھے گئے۔
17 سالہ تحقیق کے نتائج میں درج کیا گیا کہ رفیا پام نامی درختوں پر قدرتی طور پر تیار ہونے والا نشہ آور مادہ چمپینزیوں کا سب سے پسندیدہ ہے ۔
سائنسی جریدے ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق
حال ہی میں اے ایف پی پر شائع ایک رپورٹ میں سائنسی جریدے ایڈوانسر میں شائع ہونے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چیمپینزی روزانہ تقریباً 14 گرام الکوحل لیتے ہیں۔
امریکی شہر بارکلے کی کیلیفورنیا یونیورسٹی ٹیم کی جانب سے کی گئی تحقیق کے سرکردہ مصنف الیکسے میرو نے کے مطابق’ چمپینزی اپنی خوراک میں 70 فیصد سے زائد پکے ہوئے پھل کھاتے ہیں، یہ صورتحال ایسی ہے جیسے چمپینزی روزانہ pint of beer پی رہے ہوں، ہم نے پہلی بار دیکھا ہے کہ جینیاتی لحاظ سے ہمارے قریبی رشتے دار ہم سے متعلقہ خوراک بھی روزانہ استعمال کرتے ہیں‘ ۔
محققین کے مطابق ’یہ کہنا مشکل ہے کہ اس مقدار میں غذائی الکوحل کا استعمال چمپینزیوں کے رویے کو کتنا متاثر کرے گا ‘ ۔
مزید برآں محقیقن پر امید ہیں کہ الکوحل سے رغبت رکھنے والے چیمپینزیوں سے انسان کے الکحل کے استعمال کی ابتدا سے متعلق مزید شواہد جاننے اور اس کے خطرات جاننے میں فائدہ ہوگا۔