نیویارک سٹی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) جنگوں کے باعث دفاعی کمپنیوں کے بڑے شیئر ہولڈرز نے چند ہفتوں میں کتنے ارب ڈالرز کمالیے؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں ۔
تفصیلات کے مطابق امریکی جریدے’’ بلوم برگ‘‘ کے مطابق جنگوں کے باعث عالمی دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافے سے 28 ارب ڈالرز سے زائدکی نئی دولت پیدا ہوئی ہے۔ دفاعی کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری رکھنے والے14 افراد اور خاندانوں کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی کمپنیوں کے بڑے شیئر ہولڈز کی مجموعی دولت میں 3 ماہ سےکم عرصے میں28 ارب ڈالرزکااضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دولت میں اضافہ بنیادی طور پر دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی کے باعث ہوا ہے۔ میزائل، ڈرون اور الیکٹرانک جنگی نظام تیار کرنے والی کمپنیوں کےحصص میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔اسلحہ سازی کے بنیادی پرزہ جات بشمول فیوز بنانے والی کمپنیوں کو بھی اس تیزی کا فائدہ ملا ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سےترقی کرتےہوئے روایتی کمپنیوں کو چیلنج کر رہاہے۔
’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق رپورٹ کے مطابق حکومتیں تیزی سے اپنی افواج کو جدید بنانے اور اسلحہ بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہوچکی ہیں۔ اسی رجحان نے دفاعی سٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی پیدا کی ہے۔ 2026 کے دوران عالمی دفاعی کمپنیوں کے انڈیکس میں 18 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اس کے برعکس اسی عرصے میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 3.2 فیصد کمی ریکارڈکی گئی۔
بلوم برگ کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی 6 دنوں میں ہی 11.3 ارب ڈالر زخرچ کیے۔ پنٹاگون نےاس جنگ کو جاری رکھنےکے لیے مزید 200 ارب ڈالر زکی فنڈنگ کی درخواست بھی کردی ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل کا دفاعی بجٹ بھی بڑھ کر 46 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے جو 2023 کے مقابلے میں 120 فیصد زیادہ ہے۔یورپی یونین کے ممالک بھی دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔ روس کے 2022 میں یوکرین پرحملےکے بعد یورپی ممالک نے دفاعی بجٹ میں 60 فیصد سے زائد اضافہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےخاندان کے افراد بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا، بھارت، اسرائیل اور فرانس کی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے اربوں ڈالر زکمائے جا رہے ہیں۔