101

کورونا کے وار پھر تیز ، این سی او سی فوری بحال،سیاسی جلسوں کا کیا ہو گا…؟

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ عالمی وبا کووڈ 19کی شدت میں کمی آئی تھی اور انسانیت نے سکھ کا سانس لیا تھا لیکن اب پھر زندگی پر کورونا کےخطرات منڈلانے لگے ہیں . دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے ، روز کسی نہ کسی شہر میں کسی نہ کسی سیاسی جماعت کا جلسہ یا کنونشن ہو رہا ہوتا ہے …اب ایک طرف عوام کا جم غفیر ہے اور دوسری جانب کورونا ….ایسی صورتحال میں سیاسی جلسوں کا کیا ہو گا ؟ یہ تو سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا اور انہیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی ….تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وطن عزیز میں بیرون ملک سے آنے والےشخص میں اومیکرون کی ذیلی قسم کی تصدیق ہو چکی ہے ،کورونا کے باعث 103 افراد کی حالت تشویشناک ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا کے 31 کیس رپورٹ ہوئے ہیں‌. یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے این سی او سی کو فوری بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا

ہے …..قوی ادارہ صحت کے مطابق اومیکرون کی ذیلی قسم کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مانیٹرنگ کی جارہی ہے، اومیکرون کی اس ذیلی قسم سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،احتیاط کریں۔ پاکستان میں ویکسین کی اہل 83 فیصد آبادی کی انسداد کورونا ویکیسن مکمل ہوچکی ہے، شہری بوسٹر ویکسین بھی لگوائیں ۔
یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں‌کہ سابقہ حکومت میں کورونا صورتحال پر بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو قیام کے 2 سال بعد کیسس میں کمی آجانے کے بعد سابقہ حکومت نے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔این سی او سی کی کارکردگی پوری دنیا میں مثالی قرار دی گئی تھی، اسے یکم اپریل 2022 کو بند کردیا گیا تھا۔سابق سربراہ این سی او سی اسد عمر کی جانب سے اُس وقت یہ بیان

بھی جاری کیا گیا تھا کہ کورونا سے متعلق ذمہ داریاں وزارت صحت کو منتقل کر دی گئی ہیں۔
ملک میں اومیکرون وائرس کی نئی ساخت کے کیس رپورٹ ہونے کا وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے۔ این سی او سی کو فوری بحال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارتِ قومی صحت سے موجودہ صورتحال کے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق پاکستان میں ’جینوم‘ کی ترتیب کے ذریعے سب ویریئنٹ کی تصدیق ہوئی۔نئے ویریئنٹ کی وجہ سے مختلف ممالک میں کیسز کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اومیکرون کے نئے ویریئنٹ سے بچاؤ کے لیے کہا گیا ہے کہ بہترین احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ویکسینیشن کروائیں۔این آئی ایچ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی ابتدائی ویکسین مکمل کروائیں، ویکسینیشن مکمل ہونے کے 6 مہینے کے بعد بوسٹر ڈوز لگوائیں۔
یہاں تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک طرف کورونا کے کیسز بڑھنا شروع ہوئے ہیں تو دوسری جانب میٹرک کے امتحانات شروع ہو

چکے ہیں صرف لاہور میں‌اڑھائی لاکھ سے زائد طلباامتحانات دے رہے ہیں‌ جبکہ نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2022 جوکہ 26 مئی سے شروع ہونگے اس کے لیے 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد طلباء امتحانی سنٹرز کا رخ کریں گے،عملی امتحان 21 جون سے 18 جولائی تک جاری رہیں گے۔ لاہور تعلیمی بورڈ نے میٹرک کے امتحانات کے لیے امیدواروں کے 759 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ لاہور تعلیمی بورڈ کے زیراہتمام بارہویں جماعت کے امتحانات کا آغاز جون کے دوسرے ہفتے سے ہوگا. اس حوالے سے چیئرمین لاہور تعلیمی بورڈ مرزا حبیب علی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد یہ امتحانات فل سلیبس اور فل پیٹرن کے ساتھ لیا جائے گا .
اب ایک طرف تعلیمی اقدامات ہیں، طلبا کا مستقبل اور ان کی قیمتی زندگیوں کا سوال ہے ،ہیٹ ویو ہے اور دوسری جانب کورونا کا خطرہ …یہ تو ہے پنجاب کی صورتحال خیبر پختونخوا میں‌کورونا وبا کی وجہ سے کافی بچے پہلے ہی سکول چھوڑ چکے ہیں۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرتعلیم خیبرپختونخوا شہرام ترکئی یہ تلخ حقیقت بیان کر چکے ہیں کہ کورونا سے سب سے زیادہ نقصان تعلیم کا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کوشش کررہی ہےکہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھایا جاسکے.
عوام کو کورونا سے بچانے کیلئے سیاسی جماعتوں کو بھی لائحہ عمل تریتب دینا ہو گا ،تعاون کرنا ہو گا . اپنی پالیسیوں پر از سر نو غور کرنا ہو گا سیاسی جلسوں ، لانگ مارچ، دھرنوں اور عوامی رابطہ مہم کی پالیسی کو بدلنا ہو گا ..ووٹ سے زیادہ انسانیت کو عزت دینا ہو گی …….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں