متعلقہ

جمع

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت

کراچی (نیوز ڈیسک) بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان...

ٹرمپ نے تجارتی جنگ چھیڑ دی

تحریر : طیبہ بخاری نیا سال 2025اپنے ساتھ کئی اہم...

ماہرہ خان نے اپنی سکول کی سہیلی کیساتھ یادگار تصاویر شیئر کر دیں

کراچی ( ایس ایم ایس )شوبز انڈسٹری کی معروف...

ناروے میں سیاسی بحران، حکومت کی چھٹی

اوسلو ( ایس ایم ایس ) ناروے میں سیاسی...

مودی سرکار نے پاکستان آنیوالے سکھوں کو کسی کا مہمان بننے پر بلیک لسٹ کرنیکی دھمکی دیدی

Spread the love

  لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی حکومت نے پاکستان آنیوالے سکھ اور ہندویاتریوں کو کسی بھی پاکستانی شہری کے مہمان بننے پر بلیک لسٹ کرنے کا عندیہ دیدیا۔”ایکسپریس نیوز” کے مطابق بھارتی حکومت نے پاکستان آنیوالے سکھ اور ہندویاتریوں کیلئے ایڈوائزی جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ سکھ اور ہندو پاکستان میں کسی بھی پاکستانی شہری کے مہمان نہیں بنیں گے بصورت دیگر مہمان نوازی قبول کرنیوالے یاتریوں کو آئندہ کیلئے بلیک لسٹ کردیا جائیگا۔بھارت کی مرکزی حکومت نے تمام ریاستی حکومتوں کو تحریری ہدایات جاری کی ہیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے پاکستان جانیوالے سکھ اور ہندو

یاتریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی پاکستانی شہری کے ذاتی مہمان نہیں بنیں گے اور خود کو صرف متعلقہ گردوارہ اور مندر تک محدود رکھیں گے۔تمام ریاستی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صوبے میں متعلقہ سکھ اور ہندو تنظیموں کو اس بارے آگاہ کریں، خلاف ورزی کرنیوالے یاتر یو ں کو آئندہ کے لئے بلیک لسٹ قراردے دیا جائیگا۔ادھرپاکستان سکھ گورودوارہ پر بندھک کمیٹی نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے پاکستانی قوم مہمان نواز ہے، اپنے گھر آنیوالوں کو عزت اور احترام دینا ہمارے خون میں شامل ہے۔ بھارتی حکومتی ایسے ہتھکنڈوں سے نفرتوں کے بیج بوناچاہتی ہے،پاکستان بھار تی کی طرف سے کرتارپور راہداری کے راستے گورودوارہ دربارصاحب آنیوالے بھارتی اورپاکستانی یاتریوں کے میل ملاپ کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈے کوبھی مسترد کرچکا ہے۔ واضع رہے پاکستان آنیوالے سکھ اور ہندویاتری اپنے مذہبی اور مقدس مقامات کی یاترا کے علاوہ پاکستان میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے مہمان بھی بنتے ہیں، جب کہ کئی یاتریوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہاں پاکستان میں اپنے آباؤاجداد کے آبائی گاؤں، علاقے کو دیکھ سکیں۔پاکستانی حکام سے اجازت لیکر وہ لوگ اپنے آبائی علاقوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں جہاں ان کی مہمان نوازی کی جاتی ہے۔