51

توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے،4 مہینے سے صبر کر رہا ہوں ، اور لڑوں گا اور مقابلہ کروں گا:عمران خان

Spread the love

سرگودھا ا(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ چار لوگوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر سازش کی اور پھر ان کو نا اہل کروانے کا منصوبہ بنایا،میں جب چاہوں اسلام آباد کو بند کر سکتا ہوں۔جمعرات کو سرگودھا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، نوازشریف، زر د اری، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائیگا۔جس طرح مجھے دیوار سے لگایا جارہا ہے، کبھی دہشت گردی کا کیس کبھی توہین مذہب کا کیس اور کبھی کس قسم کی آیف آر میرے لوگوں پر کی جارہی ہے۔ جو حلیم عادل سے کیا جارہا ہے اور شہباز گل کیساتھ ہوا۔ جو صحافی ہمیں سپورٹ کرتے ہیں ان کو فون کرکے دھمکایا جاتا ہے، صحافیوں کو نوکری سے نکلوایا جارہا ہے صرف میری حمایت سے روکنے کیلئے۔جتنا دیوار سے لگائیں گے میں تو اور لڑوں گا اور مقابلہ کروں گا۔ ایسا نہ ہو مجھے اتنا دیوار سے لگائیں کہ میں قوم کے سامنے ان لوگوں کے شکلیں رکھ دوں جنہوں نے اپنے مفادات کیلئے ملک کو اس مشکل میں ڈالا ہے۔ 4 مہینے سے صبر کر رہا ہوں میں اپنے ملک کیلئے صبر کر رہاہوں۔ میں جب چاہوں اسلام آباد کو بند کرسکتا ہو لیکن ملک کے مفاد میں نہیں کر رہا، معا شی مشکلات ہے اور اب سیلاب آیا ہوا ہے۔عمران خان نے کہا 25 مئی کو پولیس اور رینجرز نے خواتین پر شیلنگ کر کے

خوف پھیلایا۔میں توبھول ہی گیا ہوں میرے خلاف اب تک 17 ایف آئی آرکٹ چکی ہیں،پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہرحربہ استعمال کیا گیا پھربھی یہ ہارگئے،پنجاب کے ضمنی الیکشن ہارنے پر حمزہ ککڑی کو فارغ کرنا پڑا۔تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ضمنی الیکشن ہارنے کے بعد یہ خوفزدہ ہوگئے کہ اگر انتخابات کرا دیے تو عمران خان کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن کے بعد ٹیکنکل طریقے سے مجھے فارغ کرانے کی سازش شروع کی، پہلی سازش حکومت گرانا، دوسری سازش مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش تھی، ایک بند کمرے میں یہ بھی فیصلہ ہوا، عمران خان کو مکمل طور پر سائیڈ کر دیا جائے۔میں نے ٹیب میں ریکارڈ کرا کر رکھ دیا جس میں ان 4 لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے میری حکومت کے خلاف سازش کی اور نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو وہ ٹیپ عوام کے سامنے آئے گی اور پھر عوام ان چاروں لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ جنہوں نے سازش کی وہ بتائیں کہ آج پاکستان کا جو حال ہے اس کا کون ذمہ دار ہے۔ میں آج یہ سوال پوچھتا ہوں کہ جب پاکستان صیحح راستے پر چل رہا تھا تو کونسی قیامت آئی تھی کہ ہماری حکومت گرا کر ان چوروں کو مسلط کیا گیا۔پی ٹی آئی چیئر مین نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، نوازشریف، زرداری، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا،توشہ خانہ کیس میں یہ سارے ذلیل ہوں گے۔اس سے قبل سرگودھا میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ اب توہین آئی ایم ایف کی ایف آئی آر بھی مجھ پر کٹنے لگی ہے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے انسان کوزمین پرانصاف قائم کرنے کے لیے بھیجا ہے، اللہ نے انسان کو سب سے عظیم مخلوقات بنایا، انسان اور جانوروں کے معاشرے میں دو فرق ہوتے ہیں، انسان کے معاشرے میں انسانیت ہوتی ہے،ہمارے نبیؐ نے دنیا کی پہلی اسلامی فلاحی ریاست بنائی، دوسرا، جانوروں کے معاشرے میں انصاف نہیں طاقتور کی حکمرانی ہوتی ہے،انسانی معاشرے میں کمزور کو تحفظ دینے کو قانون کہتے ہیں، طاقتور طبقہ کبھی قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتا۔ آپ میرے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی جنگ میں شرکت کریں، شاہین وہ ہوتا ہے جو زنجیریں توڑ کر اوپرجاتا ہے، غلام کبھی شاہین کی طرح اوپر نہیں جا سکتا،جاگیر دارانہ نظام میں جاگیر دار قانون سے اوپر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پابندی کے باوجود روس سے کہا گندم دے دیں آزاد لوگ ہی پرواز کر سکتے ہیں، امریکی سازش سے امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی،امپورٹڈ حکومت کبھی بھی عوام کے حقوق کے لیے کھڑی نہیں ہو گی، انہوں نے گزشتہ حکومت میں مہنگائی کے خلاف مہم چلائی، چار ماہ میں ملک میں مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں،ان سے مہنگائی کا پوچھیں، مدینہ منورہ میں لوگوں نے ان کو چورکہا میرے اوپر توہین مذہب کا الزام لگا دیا، اب توہین آئی ایم ایف کی ایف آئی آر بھی مجھ پرکٹنے لگی ہے۔پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ حقیقی آزادی کا مطلب کسی کی غلامی نہیں کریں گے، اس ملک میں امپورٹڈ فیصلے نہیں ہوں گے،امپورٹڈ حکومت روس سے سستا تیل نہیں خرید سکتی،یہ غلام ہے وہی کریں گے جو ان کے آقا حکم کریں گے،امریکا کی جنگ میں پاکستان نے بے شمارقربانیاں دیں، ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے، کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، ہمیں کسی کے لیے اپنے لوگوں کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کفر کا نظام چل سکتا ہے ناانصافی کا نظام نہیں چل سکتا، قانون کی حکمرانی قائم کرنا وکلا کی بھی ذمہ داری ہے،طاقتور این آر او لیکر وزیراعظم بن جاتا ہے،ملک میں طاقت ور اور غریب کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے،جن ملکوں میں رول آف لا وہاں خوشحالی ہے،ہم نے انصاف لیکراپنی حقیقی آزادی لینی ہے،یہ نہیں ہوسکتا 30سال ملک لوٹنے والوں کو چپ کرکے تسلیم کرلوں، سیلاب کے دوران متاثرین کا خیال کروں گا لیکن کسی صورت چوروں کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا،اگر کوئی سمجھتا ہے ڈرا، دھمکا کردہشت گردی کے مقدمات کرلیں گے تو چوروں کو تسلیم کر لوں تو سب کو واضح کر دوں کسی صورت ان کو تسلیم نہیں کروں گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ وکلا کو حقیقی آزادی کی تحریک میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، اس مافیا نے ملک پرقبضہ کیا ہوا ہوا ہے ان کی جڑیں ہرجگہ پرہیں، خوف پھیلایا جارہا ہے دہشت گردی، توہین مذہب کیس میں مجھے جیل میں ڈال دیں گے، جومرضی کرلیں وکلا نے میرے ساتھ چلنا ہے،26سال میں اتنا شعورپہلے نہیں دیکھا حقیقی آزادی زیادہ دور نہیں۔ سرگودھا میں ڈویژن بنچ بنائیں گے، پاکستان میں ہر ڈویژن کو صوبہ بننا چاہیے، جتنے زیادہ صوبے ہوں گے عام آدمی کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی، لوگوں کواپنے مسائل کے حل کے لیے لاہور جانا پڑتا ہے، زیادہ صوبے بنانے کے حوالے سے بحث ہونی چاہیے۔ معاشرے میں سب سے اہم چیز انصاف ہے۔وکلاء کنونشن کی تقریب کے دوران عمران خان کی زبان پھسل گئی اور کہا کہ جب پاکستان بنا تو آبادی 40 کروڑ تھی اور آج 22 کروڑ ہے، اسی دوران وہاں پر موجود وکلاء نے چیئر مین پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس وقت ہماری 40 لاکھ تھی، جس پر سابق وزیراعظم نے فوری طور پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں آبادی بڑھنے سے صوبوں میں بھی اضافہ ہوا، یونٹس زیادہ ہوں گے تولوگوں کے مسائل جلد حل ہوں گے۔
علاوہ ازیں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے 12 ستمبر کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں