زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے…..یادیں امیر مینائی کی

Spread the love

انتخاب : نیاز مگسی
اردو کے مشہور و معروف شاعر ،ادیب امیر مینائی 1829ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام امیر احمد ، مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔ شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم 2 کتابیں “شاد سلطان” اور” ہدایت السلطان” تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئے, ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُنہیں اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد گئے وہاں کچھ دن قیام کیا تھا کہ بیمار ہو گئے اور وہیں13اکتوبر 1900ء کو انتقال ہو گیا۔
امیر مینائی متعدد کتابوں کے مصنف تھے، ایک دیوان “غیرت بہارستان” 1857ء کے ہنگامے میں ضائع ہوا۔ موجودہ تصانیف میں دو عاشقانہ دیوان مراۃ الغیب، صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محمد خاتم النبینﷺ ہے۔ 2مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔

ذکرشاہ انبیا ءبصورت مسدس مولود شریف ہے۔۔ چھ واسوختوں کاایک مجموعہ بھی ہے۔ نثری تصانیف میں انتخاب یادگار شعرائے رام پور کا تذکرہ ہے جو نواب کلب علی خان کے ایما ءپر 1890ء میں لکھا گیا۔ لغات کی3 کتابیں ہیں۔ سرمہ بصیرت ان فارسی عربی الفاظ کی فرہنگ ہے جو اردو میں غلط مستعمل ہیں۔ بہار ہند ایک مختصر نعت ہے۔ سب سے بڑا کارنامہ امیر اللغات ہے جس کی 2جلدیں الف ممدودہ و الف مقصورہ تک تیار ہو کر طبع ہوئی تھیں کہ انتقال ہو گیا۔
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
نہ گُل ہیں نہ بُوٹے نہ غنچے نہ پتّے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے
ستاروں کو دیکھو بہار آنکھ اُٹھاکر
کھلاتا ہے پھول آسماں کیسے کیسے
خزاں لوٹ ہی لے گی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے
رہِ عشق میں پھرتے ہیں مارے مارے
تباہی زدہ کارواں کیسے کیسے
جگر میں تڑپ ، دل میں درد، آنکھ ہے نم
ملے ہیں ہمیں مہماں کیسے کیسے
امیر اب مدینے کو تو بھی رواں ہو
چلے جاتے ہیں کارواں کیسے کیسے
…………………….
متفرق اشعار
……………………………….
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
………………………..
تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے
…………………………
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
…………………………
ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری
……………………………
مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سو سوالوں سے یہی اک سوال اچھا ہے
……………………………..
امیر اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں
………………………..
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا
…………………………………
کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے
خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے
…………………………………..
آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
………………………………………
پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا
پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا
…………………………………….
ہٹاؤ آئینہ امیدوار ہم بھی ہیں
تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں
……………………………
اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر
میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا
………………..
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
…………………………
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
…………………………
کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد
یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد
…………………
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
…………………..
جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ
اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے

Tayyba Bukhari

Learn More →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: