معرکہ کارگل کا ہیرو ۔۔۔۔۔کیپٹن کرنل شیر خان (نشان حیدر)

Spread the love

تحریر: طیبہ بخاری

 آج اس شہید کو یاد کرنے کا دن ہے جس کی بہادری کے قصیدے دشمن نے بھی پڑھے ۔ جس نے اپنے لہو سے معرکہ کارگل لکھا اورنشان حیدرپایا ۔ وہ اپنے نام جیسا تھا ۔  آج کیپٹن کرنل شیر خان نشان حیدر کا 24 واں یومِ شہادت  ہے۔  آزاد فضا میں سانس لینا ہمارے شہدا ءکی قربانیوں کے ہی مرہونِ منت ہے۔ شہداء کا لہو ہم پر قرض ہے اور ان کی قربانیاں ہمیں اتحاد اور یگانگت کا درس دیتی ہیں۔ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا وہ ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں۔ جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہیں۔ شہید کرنل شیر خان دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا۔

کیپٹن شیر خان مغل خاندان میں پیدا ہوئے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔  والدہ کا انتقال 1978 میں ہوا جب شیر خان کی عمر صرف 8 سال تھی۔ اُنکی پرورش پھوپھیوں اور چچیوں نے کی۔کیپٹن شیر خان کے دادا نے کشمیر میں  1948 کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ انھیں یونيفارم میں ملبوس فوجی اچھے لگتے تھے چنانچہ ان کے یہاں جب پوتا پیدا ہوا تو انھوں نے کرنل کا لفظ ان کے نام کا حصہ بنا دیا۔تاہم اس وقت انھیں اندازہ نہیں تھا کہ اس نام کی

وجہ سے ان کے پوتے کی زندگی میں مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیپٹن شیر خان نے گورنمنٹ کالج  صوابی سے اپنا انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد  ائیر مین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی، ٹریننگ مکمل کی اور رسالپور کے بنیادی فلائنگ ونگ میں الیکٹریکل فٹر(اییروناٹیکل) کے طور پر تعینات ہوئے۔ اس دوران انہوں نے 2 بار پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں دوسری دفعہ کامیابی حاصل کی۔1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی اور 1994 میں 90لانگ کورس سے گریجویشن مکمل کی۔ ان کی پہلی تعیناتی ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے ساتھ اوکاڑہ میں ہوئی۔ ان کے چہرے پہ ہمیشہ ایک فوجی کی مسکراہٹ رہتی تھی جس کی وجہ سے “شیرا” کے لقب سے مشہور تھے

کارگل پر لکھی گئی کتاب ‘وٹنس ٹو بلنڈر-کارگل سٹوری انفولڈز’ کے مصنف اشفاق حسین بتاتے ہیں کہ ‘کرنل’ لفظ شیر خان کے نام کا حصہ تھا اور ‘وہ اسے بہت فخر سے استعمال کرتے تھے۔ کئی بار اس سے کافی مشکلیں پیدا ہو جاتی تھیں۔’جب وہ فون اٹھا کر کہتے تھے ‘لیفٹیننٹ کرنل شیر سپیکنگ’ تو فون کرنے والا سمجھتا تھا کہ وہ کمانڈنگ افسر سے بات کر رہا ہے اور وہ انھیں ‘سر’ کہنا شروع کر دیتا تھا۔ تب شیر مسکرا کر کہتے تھے کہ وہ لیفٹیننٹ شیر ہیں۔ میں ابھی آپ کی بات کمانڈنگ افسر کے ساتھ کرواتا ہوں۔’

بی بی سی کے مطابق  ان کے ایک سال جونيئر کیپٹن علی الحسین بتاتے ہیں: ‘ان کی انگلش بہت اچھی تھی وہ دوسرے افسروں کے ساتھ ‘سکریبل’ کھیلا کرتے تھے اور اکثر جیتتے تھے۔ جوانوں کے ساتھ بھی وہ آسانی سے گھل مل جاتے تھے اور ان کے ساتھ لڈو کھیلتے تھے۔’

کیپٹن کرنل شیر خان نے جنوری 1999ء میں خود کو لائن آف کنٹرول پر تعیناتی کے لیے پیش کیا، 28 جون 1999ء کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر شدید ترین حملہ کیا۔  صرف 24 پاکستانی فوجیوں نے دشمن کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ کیپٹن کرنل شیر خان میجر عاصم کے معاون تھے۔ دشمن کے دباؤ کے پیش نظر مزید 17 پاکستانی فوجی بھیجے گئے اور پھر کل 41 فوجیوں کی قیادت کیپٹن کرنل شیر خان نے کی اور بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔ کیپٹن شیر خان نےسبز ہلالی پرچم  18400 فٹ کی بلندی پر لگایا۔  اپنے نام کی طرح شیر بن کر دشمن پر جھپٹے اور مادر وطن کی سرحدوں سے حملہ آور دشمن کو مار بھگایا، اپنے جانبازوں کے ہمراہ دشمن کے مقابلے میں تعداد میں کم ہونے کے باوجود پاکستان کی سرحد کا ایسا دفاع کیا کہ تاریخ رقم کر دی ۔کارگل جنگ کے اس ہیرو نے اپنے خون سے دفاع وطن کی لازوال تاریخ رقم کی،5 جولائی 1999 کو کیپٹن کرنل شیر خان نے شہادت کا تمغہ اپنے سینے پر سجایا۔غازی میجر عاصم نے خود 300 بھارتی فوجیوں کی لاشیں گنیں پاکستانی افواج کی اس معرکہ آرا کامیابی میں کیپٹن کرنل شیر خان سمیت 9 پاکستانی فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کا  آج کے دن کے حوالے سے کہنا ہے کہ “کیپٹن کرنل شیر خان کی بے مثال بہادری ہمارے لیے مشعل راہ ہے، انہوں نے جرأت، حب الوطنی کی لازوال تاریخ رقم کی، ان کا یوم شہادت افواج کی وطن کے لیے قربانیوں کا مظہر ہے، ملک کی آبرو کے لیے جان نچھاور کرنے والے درخشندہ ستارے عزت و تکریم کے مستحق ہیں”۔

کرنل شیر خان شہید نے اپنے آج کو ہمارے آنے والے کل پر قربان کر دیا۔ ہمارا سلام اس شیر پر۔۔۔۔

Tayyba Bukhari

Learn More →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: