متعلقہ

جمع

ہم لمبی جدوجہد کیلئے تیار ہیں: اسد قیصر

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) اپوزیشن اتحاد تحریک...

 نفرت پھیلانے والوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا  

لاہور ( ایس ایم ایس ) نفرت پھیلانے والوں ...

مطالعہ کو شعار بنائیں، تنقید سے نہ گھبرائیں، ادب کو شہرت کا زینہ نہیں خدمت سمجھیں

از قلم: یاسمین اختر ریسرچ سکالر (گوجرہ، پاکستان) اردو ادب...

خواب مٹی میں دفن ہو گئے۔۔۔۔

Spread the love

تحریر: سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

پاکستان کی تاریخ میں بارہا ایسے لمحات آئے ہیں جب قدرتی آفات نے قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کبھی زلزلے کی ہلاکت خیزیاں، کبھی قحط کی بے رحمی، اور کبھی بارشوں کا بے قابو طوفان۔ انہی آفات میں سب سے زیادہ تباہ کن وہ سیلاب ہیں جو پلک جھپکتے میں بستیاں اجاڑ دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں آنے والا سیلاب بھی لاکھوں انسانوں پر قیامت بن کر ٹوٹا۔ کھیت کھلیان بہہ گئے، چھتوں کا سائبان چھن گیا، مال مویشی لہروں کی نذر ہوگئے اور نا جانے کتنے گھرانوں کے خواب مٹی میں دفن ہو گئے۔
ان حالات میں متاثرین کی آنکھوں میں جو بے بسی جھلکتی ہے وہ کسی بھی حساس دل کے لیے ناقابلِ برداشت منظر ہے۔ ماں کی گود خالی ہو جائے، بچوں کے ہونٹ بھوک سے نیلے پڑ جائیں، بوڑھے والدین کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار بیٹھے ہوں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی دل موم نہ ہو تو پھر انسانیت کا مفہوم ہی سوال بن جاتا ہے۔
ایسے کٹھن وقت میں ریاستی ادارے اپنی جگہ، لیکن اصل قوت عوامی سطح پر پیدا ہونے والی امداد باہمی میں مضمر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جن کے علاقے اس آفت سے محفوظ رہے ہیں، وہی دراصل اپنے متاثرہ بھائیوں کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج اگر مصیبت کسی اور پر آن پڑی ہے تو کل یہ آزمائش ہمارے دروازے پر بھی دستک دے سکتی ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں بارہا ایک دوسرے کی مدد کرنے، ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑا ہونے اور مصیبت زدہ انسان کو سہارا دینے کو اعلیٰ ترین عمل قرار دیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم، یعنی عام لوگ، کس طرح اپنے متاثرہ ہم وطنوں کی مدد کرسکتے ہیں؟ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ امداد صرف روپیہ پیسہ دینے تک محدود نہیں ہوتی۔ یہ ایک وسیع عمل ہے جس میں دل، وقت اور محنت سب شامل ہوتے ہیں سیلاب زدہ علاقوں میں سب سے پہلا مسئلہ صاف پانی اور کھانے کا ہوتا ہے۔ جن گھروں میں ذخیرہ موجود ہے وہ اپنے پڑوسی دیہات یا قریبی متاثرین تک یہ بنیادی ضرورت پہنچا سکتے ہیں۔ ایک ڈبہ آٹا، کچھ دالیں یا پانی کی بوتلیں کسی بھوکے خاندان کے لیے زندگی کی ضمانت بن سکتی ہیں۔
اگر آپ کے علاقے میں کوئی اسکول، مسجد یا کمیونٹی ہال موجود ہے تو اسے عارضی پناہ گاہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں مقامی لوگ رضاکارانہ طور پر متاثرہ خاندانوں کو چھت اور چارپائی مہیا کریں۔
بارش اور سیلاب کے بعد وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ مقامی ڈاکٹر، کمپاؤنڈر اور طبی طلبہ اپنی خدمات پیش کریں۔ دوائیوں کا چندہ جمع کیا جائے اور متاثرہ جگہوں پر فوری طبی کیمپ قائم کیے جائیں۔
متاثرہ بچوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ ایسے میں قریبی محفوظ علاقوں کے اساتذہ اور طلبہ عارضی تدریسی مراکز قائم کر کے ان معصوم ذہنوں کو اندھیروں میں ڈوبنے سے بچا سکتے ہیں۔
آفت زدہ لوگ صرف مادی نہیں، بلکہ ذہنی و روحانی سہارا بھی چاہتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھ کر ان کے دکھ سننا، حوصلہ دینا اور ان کو یقین دلانا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، یہ سب امداد باہمی کے دائرے میں آتا ہے۔
یہ تمام اقدامات کسی بڑی حکومت یا ادارے کے محتاج نہیں۔ یہ سب کچھ ایک چھوٹا سا محلہ، ایک کمیٹی یا چند دوست مل کر بھی کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر محفوظ گھرانہ صرف ایک متاثرہ گھرانے کی ذمہ داری لے لے تو یہ بحران بڑی حد تک کم ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے، سیلاب صرف کچی اینٹوں کے مکان نہیں ڈھاتا بلکہ انسان کے دل سے جینے کی امید بھی چھین لیتا ہے۔ اگر ہم اس وقت اپنے بھائیوں کے ہاتھ تھام لیں تو نہ صرف ان کی زندگیوں کو سہارا دیں گے بلکہ اپنی انسانیت کو بھی زندہ رکھیں گے۔
یہ مشکل گھڑی ہماری آزمائش ہے۔ کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے یا اپنے وسائل، وقت اور جذبے کو بروئے کار لا کر اپنے ہم وطنوں کے لیے ڈھال بنیں گے؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اور اگر ہم نے صحیح فیصلہ کر لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی کہ ہم نے مشکل گھڑی میں انسانیت کا حق ادا کیا۔ ( نوٹ : ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں )