100

یہ ہو کیا رہا ہے…؟ کبھی کابینہ بننے میں تاخیر ، کبھی حلف میں تاخیر ، اور اب طارق فاطمی کی” واپسی” سب ٹھیک ہے تو بلاول ، نواز مذاکرات کیوں‌؟

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) ابھی بھرپور طریقے سے آمد نہیں ہوئی کہ” واپسی” کا عمل شروع ہو چکا ہے …. ہم کسی بھی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے گھر واپس بھیجنے کے حق میں نہیں نہ ہی کسی کی طرفداری کر رہے ہیں لیکن حالات کیا منظر کشی کر رہے ہیں اس پر تو بات کر سکتے ہیںا ور کرنا بھی پڑے گی کیونکہ عوام اور معیشت مزید اضطراب اور گو مگو کی کیفیت برداشت نہیں کر سکتے ……آخر ہو کیا رہا ہے اقتدار کے اس کھیل میں …؟ پہلے تو وفاقی حکومت کابینہ کا اعلان نہیں کر پا رپی تھی اور جب ایک ہفتے بعد” جہاز سائز” کابینہ سامنے آئی تو اس میں بھی کسی نے حلف اٹھانے سے انکار کیا تو کسی نے حلف لینے سے انکار کر دیا . کابینہ بنی تو وزرا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ، پھر ایک ہی روز بعد طارق فاطمی سے مشیر برائےخارجہ امور کا عہدہ واپس لے لیا گیا تا ہم وہ تاہم وہ معاون خصوصی برقرار رہیں گے،گزشتہ روز ہی طارق فاطمی کے مشیر برائے خارجہ امور کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔یہ وہی طارق فاطمی ہیں‌ جو سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی بھی رہ چکے ہیں 35 سال سے زائد عرصے تک کیریئر ڈپلومیٹ رہے، اس

دوران انہوں نے 2 مرتبہ ماسکو، نیو یارک، دو مرتبہ واشنگٹن اور بیجنگ سمیت بیرون ملک پاکستانی مشنز میں مختلف سفارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ڈان لیکس میں بھی انکا نام لیا گیا .تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طارق فاطمی سے خارجہ امور کا قلم دان پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات پر واپس لیا گیا، پیپلز پارٹی نے( ن )لیگ کو طارق فاطمی پر تحفظات سے متعلق آگاہ کیا تھا۔پی پی نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ متنازع شخصیات کی تعیناتیوں سے گریز کیا جائے، نیز وزارت خارجہ پی پی کو ملنے کے بعد طارق فاطمی کی تقرری نامناسب ہے۔اس سلسلے میں سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی نیر بخاری نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا طارق فاطمی کی تعیناتی جیسے اقدامات سے حکومتی اتحاد متاثر ہوگا، ان کی تعیناتی سے قبل اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ حکومت نے وزیر خارجہ کا عہدہ پی پی کو دینے کی یقین کرائی تھی، بلاول بھٹو، حنا ربانی کھر کے بعد طارق فاطمی کی تعیناتی سمجھ سے بالاتر ہے، وزیر اعظم کو ایسے فیصلے لینے سے پہلے مشاورت کرنی چاہیے۔واضح رہے کہ طارق فاطمی سے صرف خارجہ امور کی ذمہ داری واپس لی

گئی ہے۔نوٹفکیشن کے مطابق معاون خصوصی طارق فاطمی کو وزیر مملکت کا عہدہ بھی دے دیا گیا ہے، پہلے جاری نوٹیفکیشن میں طارق فاطمی کو وزیر مملکت کا عہدہ نہیں دیا گیا تھا، انھیں وزیر مملکت کے برابر مراعات ملیں گی۔. … واپس چلیں وفاقی کابینہ کی طرف تو وزیراعظم نے وفاقی وزیر احسان مزاری سے انسانی حقوق کاقلمدان واپس لےلیا ہے اوراب وفاقی وزیر انہیں وزارت بین الصوبائی رابطہ کا قلمدان دیا ہے جس کے بعد قلمدان کی تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔وفاقی وزیر احسان مزاری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ 2018 کے عام انتخابات میں این اے 197 کشمور سے کامیاب ہوئے۔…. یہاں آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ (ق )لیگ کے سالک حسین اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی کو بھی وزیر بنائے جانے کا امکان ہے ، آصف علی زرداری کے کہنے پر دونوں کو وزارتیں دی جارہی ہیں۔ذرائع کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی کو وفاقی وزیر بنایا جائے

گا، آصف علی زرداری کے کہنے پر دونوں کووزارتیں دی جارہی ہیں۔اس سے قبل بلوچستان نیشنل پارٹی نے کابینہ میں شمولیت کا حامی بھرلی تھی، وزیراعظم سے ملاقات میں مطالبات تسلیم ہونے پر شمولیت کا فیصلہ ہوا۔ آغا حسن بلوچ کو وفاقی وزیرسائنس اینڈٹیکنالوجی اور بی این پی کے ہاشم نوٹزئی کو وزیرمملکت برائے توانائی بنایا جائے گا۔…..یہ تو تھا وفاق کی سطح کا معاملہ لیکن صوبوں کی سطح پر بھی معاملات کچھ ایسے ہی ہیں‌، ابھی تک گورنر پنجاب نے نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف نہیں لیا، وفاق میں صدر مملکت نے وزیر اعظم سے حلف نہیں لیا ، عثمان بزدار کے استعفے کے طریقے کار پر بھی بحث جاری ہے ، عدالتوں میں مختلف سیاسی معاملات زیر بحث ہیں . صوبہ سندھ کا ذکر کریں تو وہاں بھی کابینہ میں تبدیلی ہوئی ہے، رکنِ سندھ اسمبلی شرجیل انعام میمن کو صوبائی وزیر بنا دیا گیا ہے۔شرجیل انعام میمن کو صوبائی وزیر بنانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ شرجیل انعام میمن کل وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔انہیں محکمۂ اطلاعات سندھ کا قلم دان دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیرِ ٹرانسپورٹ سندھ اویس

قادر شاہ کا نام سندھ کابینہ سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔سندھ کابینہ میں وزرا کے محکموں کی تبدیلی بھی متوقع ہے ، ایم کیوایم نے سندھ حکومت میں شمولیت مذاکراتی عمل میں پیشرفت سے مشروط کی ہے۔ایم کیوایم کی شمولیت کی صورت میں پی پی کے مزید 2 وزرا اور ایک مشیر کو ہٹایا جائے گا۔ایم کیوایم 3وزیر اور ایک مشیر سندھ کابینہ میں شامل کرنے کی درخواست کررہی ہے اور پیپلزپارٹی ایم کیوایم کو 2 وزیر ،ایک مشیر اور 2 معاونین خصوصی دینے پر رضا مند ہے۔…اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے جس کی تفصیل ابھی یہاں بیان نہیں کی جا سکتی کیونکہ مسلم لیگ (ن) کو معلوم ہے کہ ان کے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے ، توشہ خانے سے تحائف کی خریداری اور فروخت کا کارڈ بھی کھیلا گیا لیکن میڈیا اور سوشل میڈیا پر نواز دور کے تحائف کا ذکر بھی پورے زور و شور سے چھڑ چکا ہے . بلاول بھٹو زرداری وفد کے ہمراہ نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن میں ہیں . بلوچستان کی ایک جماعت جو پہلے تحریک انصاف کی حکومت کی اتحادی تھی ،تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کیساتھ جا ملی اب وہ جماعت نئی حکومت سے بھی دور جانے کے بارے

میں سوچ رہی ہے کیونکہ اس نے ابھی تک کوئی وزارت قبول نہیں کی ……تحریک انصاف اسی جماعت کے بارے میں کہہ رہی ہے کہ نئی حکومت بلوچستان کی اس جماعت کے 3 ووٹوں پر کھڑی ہے ، یہ ووٹ نکلے تو حکومت زمین بوس ہو جائے گی . دوسری جانب معاشی امور کے ماہر مزمل اسلم اور پی ٹی آئی دعویٰ کر رہے ہیں‌ کہ شہباز حکومت آئی ایم ایف کی تابعداری میں ٹیکس بڑھانے جارہی ہے. پٹرول، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کے ساتھ امپورٹڈ حکومت عام آدمی پر ٹیکس کی شرح بھی بڑھانے جائے گی وہ بھی صرف ایک ارب ڈالر کے پیچھے۔ حکومت ساتھ میں چین اور قطر سے قرض بھی مانگ رہی ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ڈالر جتنا نیچےآیا تھا اتنا ہی اوپر جا جا چکا ہے ،واضح نظر آ رہا ہے کہ غیر یقینی کی فضا ختم ہونے تک معیشت نہیں سنبھلے گی، غیر یقینی کی کیفیت بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں،ایسی صورتحال میں روپیہ مزید دباؤ میں آئے گا۔پی ٹی آئی کے مطابق ملک کی غیر یقینی صورتحال سے باہر نکلنے کا واحد راستہ الیکشن ہیں۔……اب حکومت کو بھی بتانا ہو گا کہ غیر یقینی صورتحال سے نکلنے کا راستہ ان کی نظر میں کیا ہے …..؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں