متعلقہ

جمع

دوسروں کے لیے اُٹھا آواز۔۔۔اپنی باری کا انتظار نہ کر

Spread the love

چادرِ امن تار تار نہ کر
پشت پر آشتی کی وار نہ کر

دوسروں کے لیے اُٹھا آواز
اپنی باری کا انتظار نہ کر

سیکھ لے اب تو عشق کے آداب
زخم کھا زخمِ دل شمار نہ کر

وہ جو جلتے ہیں بزمِ غیر میں بھی
اُن چراغوں پہ انحصار نہ کر

رکھ زباں بند سامنے اُن کے
رکھ دے آئینہ شرمسار نہ کر

دل کی الجھن سمجھ سے باہر ہے
ذہن کو نذرِ انتشار نہ کر

کھول کر دیکھ چشمِ عقل بھی کچھ
صرف آنکھوں پہ اعتبار نہ کر

اب اماوَس ہے مستقل راغبؔ
چاند کا اور انتظار نہ کر

کلام :افتخار راغبؔ
جدہ، سعودی عرب