متعلقہ

جمع

تحریکِ انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی گرفتار

راولپنڈی ( ایس ایم ایس )راولپنڈی میں پاکستان تحریکِ...

پیٹرول کی قیمت میں کمی

اسلام آباد ( ایس ایم ایس  ) حکومت کی...

گاؤں کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک تعمیر کر لی

لاہور ( ایس ایم ایس ) بیدیاں روڈ پر...

میرے استاد نے بنایا ہے۔۔۔

Spread the love

میرے استاد نے بنایا ہے

میں تھی مٹی، تھی دھول راہوں کی
مشفقانہ، بسیط آنکھوں کی
مہرباں، اور شفیق بانہوں کی
تھی میسر اماں، پناہوں کی

آپ کا میرے سر پہ سایہ ہے
آپ ہی نے گلے لگایا ہے
آج جو کچھ بھی ہوں ، میں جیسی ہوں
میرے استاد نے بنایا ہے

اس جہاں کی ہر اک برائی کو
میری بے وجہ خود نمائی کو
مجھ سی بے حیثیت اکائی کو
اور مری فکری نا رسائی کو

چادر علم میں چھپایا ہے
آج جو کچھ بھی ہوں، میں جیسی ہوں
میرے استاد نے بنایا ہے

غم کی پرچھائیں تھی ستانے کو
جھوٹے رشتے تھے دل دُکھانے کو
ظلم اور جبر تھے رُلانے کو
تھے عناصر مجھے ہرانے کو

گردشِ وقت سے بچایا ہے
آج جو کچھ بھی ہوں ، میں جیسی ہوں
میرے استاد نے بنایا ہے

کلام : پارس کیانی
(ساہیوال، پاکستان)