130

بچوں کیلیے ” کہو کہانی” کی دوسری شاندار کتاب ” موتی چور کے لڈو ” شائع ہو گئی

Spread the love

لاہور ( وی او پی نیوز ) عالمی معیار کی کتابیں اور ڈیجیٹل کانٹینٹ بنانے کیلئے کوشاں ادارے ” کہو کہانی “نے اپنے پہلے پراجیکٹ کی شاندار کامیابی کے بعد دوسری کتاب صوبائی دارالحکومت لاہور میں لائونچ کر دی . دوسری کتاب کا نام ” موتی چور کے لڈو ” ہے جس کی مصنفہ عمارہ شاہ ہیں‌،کتاب ” موتی چور کے لڈو ” کی تقریب رونمائی کی تقریب ڈی-ایچ- اے فیز 5 میں منعقد کی گئی ۔ تقریب میں مصنفین ، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی . تقریب کی

مہمان خصوصی معروف صحافی ، تجزیہ کار طیبہ بخاری تھیں . تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طیبہ بخاری نے کہا کہ “نصاب اور کتاب میں بہت فرق ہے ، نئی نسل صرف نصاب کی حد تک محدود ہوتی جا رہی ہے جبکہ کتاب سے دوری کے باعث ہمارے ذہنوں کو زنگ لگتا جا رہا ہے ہم تاریخ ، ادب، ثقافت ، قصے ، کہانیوں اور افسانوں سمیت بہت سی تخلیقات سے دور ہوتے جا رہے ہیں جس کا نقصان ہماری معاشرتی زندگی پر پڑ رہا ہے .ہمیں نئی نسل کے ہاتھ میں

ہتھیارکی بجائے قلم ، کتاب اور کاغذ تھمانا ہو گا ، اجڑی لائبریریوں کو آباد کرنا ہو گا . “موتی چور کے لڈو” نا صرف ایک ایسی کہانی ہے جو اپنے اندر بے شمار اسباق سموئے ہوئے ہے بلکہ اس کتاب کی خاصیت اس کی رنگا رنگ تصاویر ہیں جو بچوں کو کتاب دوستی کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار رکھتی ہیں۔ موجودہ دور میں کہ جہاں ڈیجیٹل انٹرٹینمںٹ کے باعث کتاب دوستی فراموش ہو چکی عمارہ شاہ کی یہ کتاب ادب کی دنیا میں امید کی کرن ہے۔”
تقریب میں مصنفہ عمارہ شاہ نے بچوں کے لئیے معیاری کتابوں کی فراہمی میں اپنی تگ و دو اور سفر کے بارے میں حاضرین محفل سے بات کی۔عمارہ شاہ

کا کہنا تھا کہ” میری کتابیں بچوں میں تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ کرتی ہیں . ” تقریب سے ” سنو کہانی میری زبانی” سے سعدیہ سرمد اور پنجاب یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر اسلام نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ عمارہ کی کتابیں بچے بڑے شوق سے پڑھتے ہیں ، عمارہ کیساتھ ساتھ اور لوگوں کو بھی بچوں میں اردو ادب کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں