44

دنیا کے تیسرے عجوبے دیوار چین کی تعمیر کب اور کیسے ہوئی؟ آپ بھی جان سکتے ہیں

Spread the love

لاہور ( نیوز ڈیسک ) تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اکثر مقامات پر یہ معلومات ملتی ہیں کہ  تقریباً دو سو سال قبل مسیح چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے  دشمنوں کے حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے چین کے شمال میں 21 ہزار 196 کلو میٹر ( تقریباً 13ہزار میل سے زائد) طویل ترین دیوار (دیوارِ چین) بنوائی تھی، اس دیوار سے متعلق چند دلچسپ حقائق سے دنیا تا حال ناواقف ہے۔آئیے آپ کو اس بارے میں دلچسپ معلومات سے آگاہ کرتے ہیں۔206 قبل مسیح زمانے میں چین کے دشمن منگول، ہَن اور تاتار تھے جو وسط ایشیا میں

کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے، دیوارِ چین کی تعمیر ان دشمنوں سے بچنے کے لیے کی گئی تھی جس کی ابتداء چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی تھی، اس کے بعد بے شمار بادشاہوں نے حکومت کی اور چلے گئے لیکن اس دیوار کی تعمیر ہوتی رہی۔تیسری صدی قبل مسیح میں چین کے شہنشاہ شی ہوانگ نے مختلف ریاستوں میں بنے ہوئے اس ملک کو اتحاد کی رسی میں پرو کر ایک مملکت میں بدل دیا، 221 قبل مسیح میں اسے سارے چین کا شہنشاہ تسلیم کر لیا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ سے زائد انسانوں نے مسلسل دس سال تک اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔یہ دیوار چین کے شہر بیجنگ جن شانگلنگ کے پہاڑوں پر واقع ہے ۔دنیا کے

اس تیسر ے عجوبے، 21 ہزار 196 کلو میٹر طویل دیوارِ چین کی چوڑائی زمین سے تقریباً 25 فٹ اور اوپر سے 12 فٹ ہے، اس کی تعمیر میں تقریباً چار کروڑ 72لاکھ کیوبک فٹ مٹی اورتقریباً ایک کروڑ 57 لاکھ کیوبک فٹ پتھر اوراینٹیں استعمال ہوئی ہیں۔اس دیوار کی اونچائی 20 سے 30 فٹ تک ہے اور ہر دو سو گز کے بعد پہریداروں کے لیے مضبوط قلعے بنائے گئےہیں۔اس دیوار کو دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 10 ملین سیاح سیرو تفریح کے لیے آتے ہیں۔دیوار چین کی تعمیر مکمل ہونے میں 17 سو سال کا طویل عرصہ

لگا، بعض کتابوں میں دو ہزار سال کا عرصہ بتایا گیا ہے، دو ہزار تین سو سال قبل تعمیر کی گئی دیوار چین دنیا کے سب ہی عجائبات میں سے انسانی ہاتھوں سے بنائی گئی دنیا کی طویل ترین دیوار ہے۔دو سو سال قبل مسیح یعنی کہ 220 میں بنائی گئی دیوار چین کی مضبوطی کا سے متعلق ایک روایت عام ہے کہ اس کی اینٹوں کی تیاری میں چاولوں کا استعمال کیا گیا تھا تا کہ یہ دیوار مضبوط ترین مثلِ چٹان ثابت ہو۔کہا جاتا ہے کہ چینی بادشاہ منگ کے دور میں اس دیوار کا 5ہزار کلو میٹر سے زائد کا حصہ تیار کیا گیا تھا جس کی مضبوطی کے لیے اس میں چاولوں کا آٹا اور لیموں کا پانی، پتھر، اینٹوں، چکنی زمین کی مٹی اور لکڑی استعمال کی گئی تھی۔21 ہزار 196 کلو میٹر طویل ترین اس دیوا رکا 30 فیصد حصہ وقت کےساتھ غائب ہوچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں