50

وزیرِاعلیٰ پنجاب کون؟ فیصلہ ہوگا یا ” دنگل ” ؟……سیاسی جنگ جلد ختم ہونیوالی نہیں

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) پنجاب میں ضمنی انتخابات کے بعد بھی سیاسی کھینچا تانی میں کوئی کمی نہیں آئی ، انتخاابات سے قبل ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگ رہے تھے اور اب ایک دوسرے کے ایم پی ایز خریدنے کے الزامات کا سلسلہ جاری ہے . اب دیکھنا یہ ہے کہ کل پنجاب کے تخت پر کون بیٹھے گا ،پنجاب کا تخت حمزہ شہباز کے پاس ہی رہے گا یا پرویز الٰہی کو ملے گا؟ فیصلہ پھر جمعے کوہی ہونیوالا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن نے ووٹ یقینی بنانے کے لیے اراکین کو ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے جہاں ناشتے کھابے اور گپ شپ پروگرام جاری ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کڑی نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔(ن) لیگکیو اور اتحادی اراکین کو ایئرپورٹ کے قریب ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے جس کے لئے 180 کمرے بُک کئے گئے ہیں۔دوسری جانب تحریک انصاف (پی ٹی آئی)

اور( ق) لیگ نے مال روڈ کے ہوٹل میں ڈیرہ جما رکھا ہے جہاں 200 کمرے بک کرا کے عددی حیثیت ظاہر کرنے کی جا رہی ہے ، اس کے علاوہ تمام اراکین کو گھر چھوڑ کر ہوٹل پہنچنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہہ رہے ہیں کہ “سندھ کے چوری کردہ پیسے سے وفاقی حکومت گرائی گئی اور این آر او ٹو لیا گیا۔ اب مصدقہ مجرم آصف زرداری پنجاب کے عوام کا مینڈیٹ چُرانے نکلا ہے۔ عزت مآب سپریم کورٹ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا وہ اس تباہی سے آگاہ نہیں؟ کیا جمہوریت، آئین، قوم کی اخلاقیات کی تباہی کا یہ سلسلہ سوموٹو کیلئے موزوں نہیں؟’’نیوٹرلز ‘‘کو احساس نہیں ہورہا، امپورٹڈ حکومت وطن کو ہر محاذ پر تباہی سے دوچار کر رہی ہے۔”
یہ تو تھی اب تک کی پنجاب کی صورتحال آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ….کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جب عددی اکثریت نہ رکھنے والے سینیٹ میں” جیت” اپنے نام کر سکتے ہیں تو پنجاب اسمبلی میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا …؟
پنجاب میں کل تحریک انصاف اپنی کھوئی حکومت واپس لینے میں کامیاب ہوتی ہے یا ( ن) لیگ اپنے اتحادیوں کیساتھ مل کرحمزہ کو بچانے میں کامیاب ہوتی ہے اس کا فیصلہ ہونے میں چند گھنٹے ہی باقی ہیں .لیکن یہ کھیل کل یا جلد ختم ہونیوالا نہیں کیونکہ جن کے کروڑوں خرچ ہوءے ہیں انہوں نے آءندہ انتخابات سے قبل کسی نہ کسی طرح پورے بھی تو کرنے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں