62

خواتین کے حقوق پر بات کیوں کی ؟….سعودی خاتون کو صرف ایک ٹوئیٹ پر 34 سال کی قید سنا دی گئی

Spread the love

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) کیا ایک ٹوئیٹ کرنا اتنا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے اور اتنی بڑی سزا مل سکتی ہے کہ زندگی کے قیمتی 34 سال دائو پر لگ جائیں …….یہ کوئی مفروضہ یا خیالی بات نہیں بلکہ ہم آپ کو سچ بتانا چاہ رہے ہیں . حقیقت میں ایسا ہوا ہے اور وہ بھی ایک خاتون کیساتھ … سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی خاتون کو ٹوئٹر چلانے کے جرم میں 34 سال کی سزا سنائی ہے۔ ” نیوز 18 ” کے مطابق برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی میں زیر تعلیم اس سعودی خاتون کا نام سلمیٰ الشہاب ہے جس کے 2 بچے بھی ہیں۔ ان کے خلاف الزامات میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں عوامی طور پر امن کو نقصان پہنچانے

کیلیے کارکنوں کی مدد کر رہی ہیں۔دراصل، سلمیٰ کے ٹوئٹر پر 2600 فالوورز ہیں۔ وہ سنی ملک کی مسلم خواتین کے حقوق کے بارے میں لکھتی تھیں۔ سلمیٰ سنی ممالک کی مسلم قدامت پسند سوچ پر منہ توڑ جواب دیتی تھیں۔ وہ بہت سے activists کو فالو کرتی تھیں۔ خواتین کے حقوق سے متعلق مسائل کو ریٹویٹ کرتی تھیں اس لئے سلمیٰ اس ملک کی نظروں میں مجرم بن گئیں۔
سلمیٰ جب 2021 میں برطانیہ سے چھٹی پر سعودی عرب آئیں تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں جون کے مہینے میں 6 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ جس میں سے 3 سال کی سزا معطل کر دی گئی اور ان کے سفر پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ اب اس سزا کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق سعودی اپیل کورٹ نے 9 اگست کو سلمیٰ الشہاب کو مملکت میں امن عامہ کو خراب کرنے اور مخالفین کی مدد کرنے پر سزا سنائی تھی۔ سزا کے تحت 34 سال کے لیے بیرون ملک سفر پر پابندی ہے۔ALQST نے سلمیٰ کو دی جانے والی اس سزا کی مذمت کی ہے۔ ALQST لندن میں مقیم ایک حقوق گروپ ہے۔ سعودی عدالت کے اس فیصلے پر کس نے کہا کہ پہلی بار کسی پرامن کارکن کو اتنی لمبی سزا سنائی گئی۔ ALQST کمیونیکیشنز کی سربراہ لینا الحتھلول نے کہا، “اس طرح کی ہولناک سزا خواتین اور سعودی حکام کا قانونی نظام میں اصلاحات کا مذاق اڑاتی ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں