بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی …یادیں بہادرشاہ ظفر کی

Spread the love

تحریر : آغا نیاز مگسی
بہادر شاہ ظفر 24 اکتوبر 1775 کو پیدا ہوئے اور اپنے والد اکبر شاہ ثانی کی وفات کے بعد 29 ستمبر 1837ء کو تخت نشین ہوئے تھے، تاہم اس وقت تک انگریز ہندوستان میں اپنے قدم مضبوطی سے جما چکے تھے اور مغل بادشاہ کا اقتدار فقط لال قلعے کی چہار دیواری تک ہی محدود تھا۔ 1807ء میں جب ہندوستان میں جنگ آزادی کا آغاز ہوا تو بہادر شاہ ظفر ہندوستان بھر کی حریت پسند تحریکوں کا مرکز نگاہ بن گئے اور انقلابیوں نے انہیں ہندوستان کا بادشاہ تسلیم کرلیا لیکن جب اس جنگ کے نتیجے میں انگریز فتح یاب ہوئے تو انہوں نے بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلاوطن کردیا جہاں انہوں نے 7 نومبر 1862 کو حالت جلاوطنی میں ہی وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ انگریز سامراج بہادر شاہ ظفر کے 4 بیٹوں مرزا غلام، مرزا خضر سلطان، مرزا ابوبکر اور مرزا عبداللہ کے سر کاٹ کر طشتری میں ڈال کر بہادر شاہ ظفر کو بطور تحفہ پیش کیے ۔ بہادر شاہ ظفر نے بزدلی کی بجائے بہادری کا مظاہرہ کرتے

ہوئے اپنے صاحبزادوں کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا ۔ بہادر شاہ ظفر کی ملکہ زینت محل بھی بہادر شاہ کے ساتھ قیدی بنائی گئی تھیں ۔
یہاں بہادر شاہ ظفر کے کلام میں سے انتخاب ملاحظہ کیجیے
جِن گلین میں پہلے دیکھیں لوگن کی رَنگ رَلِِیاں تھیں
پِھر دیکھا تَو اُن لَوگَن بِن سُونی پَڑی وہ گَلِیاں تھیں
اَکھّیاں اَساں دِی ڈھُونڈی اونہاں نُوں ہاۓ وہ کِتے لَوگ گئے
جِن کے مُکھ سَوسن پیارے گلّاں لَگدی دِل کو بَھلِیاں تھیں
اَیسی اَنکھّیاں مِیچے پَڑے ہیں کَروٹ بھی نہیں لے سَکدے
جِن کی چالیں اَلبیلی اور چَلنے میں چھَل بَلِیاں تھیں
خاک کا اُن کا بِستَر ہے اور سَر کے نِیچے پتھّر ہے
ہائے وہ شَکلیں پیاری پیاری کِس کِس چاؤ سے پَلِیاں تھیں
جانا ہے تَو آنا نہیں ہے آنا ہے سو جانا ہے
جَب یہ وہ سُن لیتے تھے تو پَڑِیں کَیا کَھلبلِیاں تھیں
تَلخی اُٹھائی مَوت بھی چکھّی خاک سب اُن کو چاٹ گئی
جِن کی باتیں مِیٹھی مِیٹھی مِصری کی سی ڈَلِیاں تھیں
رَوز بہاراں لُوٹتے تھے وہ جا جا کر جِن باگَن میں
شَوقِ رَنگ اَب جو دیکھا واں نا پُھول ہیں اور نا کَلِیاں تھیں
……………………..
تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
……………………..
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
……………………..
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
……………………..
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
……………………..
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

Tayyba Bukhari

Learn More →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: