93

یہ جمہوریت ہے ؟ایک منحرف رکن کہتی ہیں23 کروڑ میں زندگی بہت اچھی گزرے گی، اسد عمر

Spread the love

اسلام آباد ( وی او پی نیوز )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ایک منحرف رکن کہتی ہیں 23 کروڑ میں زندگی بہت اچھی گزرے گی، یہ جمہوریت ہے؟ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ زرداری صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا کہنے والے آج آپ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔ زرداری صاحب کم از کم آپ اس کا کریڈٹ عمران خان کو دیں گے کہ اُن کی وجہ سے( ن) لیگ والے آپ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ کیا آج کل جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہو رہا ہے؟ پاکستان آج فیصلہ کن مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ حکومت گرانے کی کوشش تو یہ ایک عرصے سے کررہے ہیں، جو بحران انہوں نے پیدا کیا اس کے معشیت پر کافی اثرات پڑے، مسلم لیگ ( ن) نے 5

سال میں صرف 57 لاکھ روزگار پیدا کیے، سیاسی بحران کا معیشت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا الیکشن کروانے میں 7 ماہ درکار ہیں، 90 دن میں کروانا ہوتا ہے، بھا ن متی کا کنبہ حکومت بنانے جا رہا ہے۔ یہ 20 سال سے ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہتے رہے ہیں، 7 ماہ یہ حکومت کیسے چلے گی، کون سی جمہوریت ہے جس کا نمونہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔مراسلہ آنے کے بعد ہی عدم اعتماد تحریک کیوں پیش کی گئی، ایک نظریہ کہتا ہے بھکاریوں کو چنا نہیں جا سکتا، دوسرا نظریہ کہتا ہے 22 کروڑ خود دار لوگوں کا ملک کسی سے کم نہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہے ملک کو کس سمت لے کر جانا ہے، ہمارےبزرگوں نےجانوں کی قربانیاں اس لیےدی تھیں؟ کہ ایک ملک بتائے گا کس ملک جاسکتے ہو کس ملک نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو کی بات سے 100 فیصد اتفاق، حل تقریروں سے نہیں ووٹ سے نکلے گا، حل ووٹ سے نکلے گا، لیکن بکاؤ مال کے ووٹ سے نہیں، پاکستان کے عوام کے ووٹ سے، ہم اغیارکے لیڈر کو دنیا کا لیڈر نہیں مانتے۔اسد عمر نے کہا کہ 15 ارب روپے لگاکر حکومت تبدیل کی جاسکتی ہے تو یہاں حرام کا بہت پیسا ہے، یہاں سیاست شروع نہیں ہورہی ، یہ سیاست کا اچھا اختتام نہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اگر یہ فیصلہ کرنا ہے کس دن اور کس وقت اجلاس ہوگا تو لپیٹیں اور پیسا بچائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں