ابھی تو باری شروع ہوئی ہے۔۔۔

Spread the love

تحریر: طیبہ بخاری

 آصف زرداری نے ایک بار پھر ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کر لی، وہ دوسری بار صدر مملکت منتخب ہوئے ہیں عمر کے اس حصے میں ہیں کہ شاید”ہیٹ ٹرک“ کر پائیں اس لیے انہیں دوسری باری” آخری باری” سمجھ کر کھیلنا ہو گی اور بھرپور کھیلنا ہو گی۔۔۔کیونکہ سیاسی میدان میں مطلع صاف نہیں اور عوام کا موڈ بھی گھن گرج والا ہے ، تبدیلی کی ہوامیں تیزی آتی جا رہی ہے ،گیند ہوا میں سوئنگ زیادہ ہوتی ہے۔۔۔ اور نئی نسل5روزہ  ٹیسٹ میچ کی بجائے ون ڈے اور ون ڈے سے بھی زیادہ ٹی ٹوئینٹی میچ زیادہ شوق سے دیکھتی اور کھیلتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ نئی نسل محبت اور نفرت کرنے میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرتی ہے سیاست میں بھی ان کے مزاج سے کوئی اور توقع نہیں رکھی جا سکتی ،یہ ٹلنے والے نہیں آئندہ انتخابات میں مزید بڑی تعداد میں ووٹرز کی شکل میں سامنے آئیں گے اور فیصلہ کن کردار ادا کریں گے ۔۔۔اس لیے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔۔۔کہا جا سکتا ہے کہ آصف علی زرداری جمہوری قوتوں کیلئے قابلِ قبول شخصیت ہیں، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔411ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے ملک کے چودہویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔سب کچھ بھاری بھاری مل چکا ، قومی اسمبلی میں ایسی اور اتنی اکثریت مل چکی ہے کہ کسی بھی وقت حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں ، کسی بھی وقت” اعتماد“ کو تحریک عدم اعتماد میں بدل سکتے ہیں۔

اس بار  2024کے انتخابات میں بہت کچھ بدلا۔۔۔ انتخابی مہم کا انداز بدلا ۔۔۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت بدلی۔۔۔کھلاڑیوں کے کھیلنے کا انداز بدلا ، بلے کے بغیر ”بیٹنگ “ کرنا پڑی ، کپتان کے بغیر ٹیم بنی ،اور میچ کا فیصلہ بھی ایسا آیا جو”ہٹ کر “ تھا۔۔۔شاید ریکارڈ بک میں نیا ، انوکھا اور سب سے مختلف۔۔۔میچ نہ تو کوئی جیتا ، نہ ہارا اور نہ ہی ”ڈرا“(برابر ) ہوا۔۔۔اور شاید میچ ابھی ختم بھی نہیں ہوا۔۔۔اور شاید ابھی تو باری شروع ہوئی ہے۔۔۔ اس بار اتنا کچھ بدلا کہ ”لاڈلہ “ بھی بدل گیا۔۔۔ماضی میں لاڈلہ کوئی بھی ہوتا ہو اس بار لاڈلہ پنجاب سے نہیں ہے۔۔۔تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں یا تصویر کو غور سے دیکھیں تو صاف نظر آئے گا کہ فی الحال قومی اسمبلی میں ”لاڈلی جماعت پیپلز پارٹی “ہے جو جب چاہے اپنی بات منوا سکتی ہے۔۔۔میچ اتنا ٹف ہو چکا ہے کہ جس کسی نے بھی اپنا دی بیسٹ پرفارم نہ کیا تو وہ میچ سے باہر تو ہو گا ہی ٹیم سے بھی باہر جائے گا اور کھیل سے بھی۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جو اچھا پرفارم کرے گا ”لاڈلہ “ بھی وہی کہلائے گا۔
اس بار کھیل کا فارمیٹ بھی بدل چکا ہے ۔۔۔کوئی ہنی مون پیریڈ نہیں ۔۔۔باؤنڈری ایریا بھی بڑا ہے ۔۔۔پہلے بولر ایک گیند پر 2یا 3وکٹیں لینے کی باتیں کرتا تھا اس بار تو کئی ٹیمیں زد پر ہیں۔۔۔5سال بعد الیکشن ہوئے ، کھلاڑی فارم میں واپس آئے تو بہت کچھ نہیں سب کچھ بدل جائے گا کیونکہ عوام کو فارم 45کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے اور انہیں یہ راز پتہ چل گیا ہے کہ اپنے ووٹوں اورنتیجے پر پہرہ کیسے دینا ہے ۔ ۔ ۔ ووٹنگ ٹائم ختم ہونے کے بعد کس سے دستخط کروانے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کر کے کب گھر واپس جا کر ٹی وی  کے آگے بیٹھنا ہے 2024کے انتخابات نے انہیں سب سمجھا دیا ہے۔۔۔اب آر ٹی ایس یا کوئی اور سسٹم بنانے یا بٹھانے سے بھی کچھ ملنے والا نہیں ۔ ۔ ۔ آئندہ الیکشن کمیشن کے تاخیری حربے بھی کام نہیں آئیں گے۔۔۔رہی بات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تو وہ بھارت میں بدنام ہو چکی۔

بات ہو رہی تھی آصف علی زرداری کی تاریخ ساز کامیابی کی۔۔۔تاریخ پر نظر دوڑائیں تو فیڈریشن کا سب سے بڑا عہدہ سنبھالنے والے آصف علی زرداری ملکی تاریخ کے 14 ویں صدر ہوں گے۔وہ ایوان صدر سے باعزت اور بخیریت رخصت ہونے والے پہلے سویلین صدر تھے۔20 جون 2001 کو سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے صدر بننے سے مارچ 2024 آصف علی زرداری کے منتخب ہونے کے بعد گزشتہ 23 سال سے عہدہ صدارت صوبہ سندھ کی شخصیات کے پاس ہی رہا ہے۔آصف علی زرداری اس حوالے سے بھی منفرد ہیں کہ وہ دونوں مرتبہ منتخب رکن قومی اسمبلی تھے، وہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچویں اور دوسرے بلوچی صدر بھی ہیں، فاروق خان لغاری بھی بلوچ تھے۔اب تک صدر مملکت رہنے والوں میں 4 کا تعلق پنجاب، 3 کے پی کے، 4 کا سندھ اور ایک شخصیت کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ پاکستانی تاریخ میں 13صدر گزرے ہیں جس میں5 فوج سے1 بیوروکریٹ1 سابق جج اور دیگر کا تعلق سیاست سے رہا ہے، اس میں فوج سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ایک سے زائد مرتبہ صدر منتخب ہونے کا موقع ملا۔
وزیر اعظم ہاﺅس کیساتھ آصف علی زرداری کا ”سیاسی تعلق “ بھی تاریخی ہے۔۔۔ بحیثیت صدرآصف زرداری 3 وزرائے اعظم کے ساتھ کام کر چکے ہیں جن میں یوسف رضاگیلانی، راجہ پرویز اشرف اور قائم مقام وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو شامل ہیں۔ اب کی بار وہ پہلی بار (ن) لیگ کے وزیر اعظم کیساتھ ”میچ “ کھیلیں گے۔ 1988ءمیں محترمہ بینظیر بھٹو کی شادی کے بعد آصف زرداری ان کے ساتھ ہی وزیراعظم ہاؤس منتقل ہو گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اصل میں انہوں نے عملی اور پارلیمانی سیاست کا باقاعدہ آغاز اسی وقت وزیراعظم ہاؤس سے کیا تھا۔ 1990ءمیں جب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا گیا تو اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں آصف زرداری رکن قومی اسمبلی بنے۔ 1993ءمیں نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں بھی وزیر رہے۔ پھر بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں رکن قومی اسمبلی اور وزیر ماحولیات و سرمایہ کاری بھی بنے۔ 1997ءسے 1999ءتک وہ ایوان بالا کے بھی رکن رہے۔
آصف زرداری نے اپنی زندگی کا پہلا الیکشن 1983ءمیں اپنے آبائی حلقے نوابشاہ کی ضلعی کونسل کا الیکشن لڑا تھا جس میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس شکست کے بعد انہوں نے جتنے بھی انتخابات میں حصہ لیا ان میں کامیابی حاصل کی۔یہ بھی دلچسپ اتفاق ہے کہ 2008ءکے صدارتی الیکشن میں ان کے مقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی اور مسلم لیگ (ق) کے مشاہد حسین سید تھے جنہیں انہوں نے شکست دی تھی۔اس مرتبہ اپنے انتخاب میں انہیں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اپنے مسلم لیگی ارکان کے ہمراہ نہ صرف خودووٹ دیئے بلکہ صدارت کی انتخابی سرگرمیوں میں کردار بھی ادا کیا۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آصف زرداری نے2008 کے مقابلے میں 70 ووٹ کم لیے،نو منتخب صدر نے2008 میں481 الیکٹورل ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی، دوسری مرتبہ صدر مملکت منتخب ہونے والے آصف علی زرداری 2008 ءکے اپنے پہلے صدارتی انتخاب کا ریکارڈ نہ توڑ سکے۔ انہوں نے 2008ءکے صدارتی انتخاب میں 481 الیکٹورل ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ(ن) کے سعید الزماں صدیقی نے 153 جبکہ مسلم لیگ (ق) کے مشاہد حسین سیدنے 44ووٹ حاصل کیے تھے۔ 2008 ءکے صدارتی انتخاب کے برعکس گزشتہ روز آصف علی زرداری نے 411 الیکٹورل ووٹ لے کر دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے ہیں، اس طرح صدر آصف علی زرداری نے2008 کے مقابلے میں 70 ووٹ کم لیے جبکہ انکے مدمقابل صرف ایک ہی امیدوار محمود خان اچکزئی تھے۔
نومنتخب صدرنے حلف اٹھالیا ہے اور وہ رواں ہفتے کے اوائل میں وفاقی کابینہ کے ارکان سے حلف لیں گے۔آئندہ ماہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

اگلے ماہ کے دوسرے نصف میں بلایا جائے گا اور صدر زرداری خطاب کریں گے کیونکہ قومی اسمبلی کے پارلیمانی سال کے آغاز کےلئے یہ لازمی ہے کہ پارلیمنٹ کے دو ایوانوں کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے اور صدر مملکت اس سے خطاب کریں اور اس کے بعد پارلیمنٹ کا پہلا باقاعدہ اجلاس ہو گا۔ کہا جا رہا ہے کہ صدر آصف زرداری کی طاقت آئینی اختیارات کی نہیں ہوگی لیکن ان کی سیاسی طاقت ان کی پیپلز پارٹی کی عددی طاقت سے پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی کے ایوانوں میں آئے گی جو موجودہ حکومت کو اپنی مخصوص پوزیشن کی وجہ سے اپنی شرائط کا حکم دے سکتی ہے۔ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر آصف علی زرداری رواں ماہ کے دوران ہی چاروں صوبائی دارالحکومتوں کا دورہ کریں گے اور سیاسی قیادت سے سیاسی تقسیم میں تیزی سے بڑھتے ہوئے پولرائزیشن کو کم کرنے کے لیے مشاورت کریں گے۔
(ن) لیگ کہہ رہی ہے کہ آصف زرداری سب سے پہلے ایوانِ صدر کو “غسلِ جمہوریت” دیں گے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے ساڑھے پانچ سال کے دوران ایوانِ صدر کا تقدس پامال کیا ، فضل الہٰی چوہدری، فاروق لغاری، رفیق تارڑ اور ممنون حسین کا تعلق بھی مختلف سیاسی جماعتوں سے تھا لیکن انہوں نے ایوان صدر کو جماعتی مفادات کےلئے آلودہ نہیں کیا تھا جبکہ صدر علوی نے ایوانِ صدر کو بنی گالہ اور زمان پارک بنائے رکھا۔ صدر آصف زرداری جمہوری روایات کو مستحکم کریں گے، وہ ملک کو سیاسی انتشار سے بچانے کےلیے نہایت تعمیری کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن یا کھلاڑیوں نے ابھی سے کہنا شروع کر دیا ہے کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سیاسی طور پر ایک دوسرے کےلیے بوجھ بن چکے ہیں۔یہ نشاندہی میڈیا میں ہو چکی کہ صدارتی انتخاب کے نتائج کے اعلان کے وقت اسمبلی میں( ن) لیگ کے 20 ارکان بھی نہیں تھے، صدر مملکت کی تقریب حلف برداری میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریک نہیں تھیں ۔ یہ حکومت تو شب خون مار کر آئی ہے، بغیر مینڈیٹ کے مشرف 8 سال اور ضیا ءالحق 11 سال بیٹھے رہے ہیں۔ ہماری ان سے کیا توقع ہوگی؟
آصف زرداری کی کامیابی پر” جیالے جشن منائیں“ یا ”متوالے غسل جمہوریت دیں“ ۔۔۔کروڑوں مفلوک الحال جمہوریت کو زندہ اور پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں مزید کوئی ”سیاسی لاش “ نہیں اٹھانا چاہتے ۔۔۔روٹی ، کپڑا اور مکان کے خواہشمند صرت اتنا چاہتے ہیں کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ایوان صدر کو استعمال کیا جائے ۔۔۔ مفاد پرستی کی سیاست کو مسترد کیا جائے۔۔۔کیونکہ آج تمام اکائیوں کو اکٹھا کرنا اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا وقت ہے۔آصف زرداری ”بڑے عہدے“ پر آئے ہیں ۔۔صرف بڑے اعلانات نہیں ”بڑے فیصلے“ ، ” بڑے اقدامات“ کرنا ہونگے ۔۔۔وگرنہ ۔۔۔رد عمل آئے گا… ضرور آئے گا ۔

Tayyba Bukhari

Learn More →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: